بہاولپور کے چڑیا گھر میں بنگال ٹائیگرز کے پنجرے میں ایک شخص کی ہلاکت نے انتظامیہ کی کارکردگی کا پول کھول دیا ۔افسوس ناک واقعے کے بعد حکومت کی طرف سے تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے ۔ پنجرے میں موجود بنگال ٹائیگر ز نے سب سے پہلے اس شخص کی گردن پر حملہ کرکے اس منکا توڑا ،اور گردن بھی چبا ڈالی ،اس کے علاوہ جسم کا نچلا حصہ بھی کھایا ہوا تھا ۔شیر ساری اس شخص کو کھاتے رہے اور گارڈز کو خبر تک نہ ہوئی ،متوفی نے جوگر ز پہنے ہوئے تھے ،اس کی جیب سےنہ شناختی کارڈ نکلا اور نہ پارک کی ٹکٹ موجود تھی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے چڑیا گھر میں 108 گارڈز تھے ،گارڈز کیا کر رہے تھے ، انہو ں نے رات کے وقت چڑیا گھر خالی کیوں نہ کرایا ، یہ شخص کہاں چھپا رہا اور پنجرے میں کیسے چلا گیا ، جبکہ ویڈیو میں دیکھا جائے تو پنجرے کیساتھ ایک سیڑھی بھی موجود ہے ،جہاں سے یہ شخص چھت پر چڑھا جس کے وہ اندر گرا یا چھلانگ لگا ئی ؟
دوسری جانب چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق صبح شیر کے پنجرے میں گوشت ڈالنے گئے تو وہاں لاش پڑی تھی، متوفی کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی ۔
بہاولپور چڑیا گھر شیرشاہ باغ انتظامیہ کا موقف ہے کہ واقعہ ممکنہ طور پر رات کو پیش آیا ، شہری پنجرے میں کیسے داخل ہوا۔ چڑیا گھر انتظامیہ نے بتایا کہ جس پنجرے سے شہری کی لاش ملی وہاں 4 شیر موجود ہیں۔
جاں بحق شہری کی شناخت نہیں ہو سکی۔ شہریوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے حکام سے چڑیا گھر انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے بہاولپور کے چڑیا گھر میں شیروں کے حملے سے جاں بحق شہری کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری وائلڈ لائف اور کمشنر بہاولپور سے رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے واقعے کی تحقیقات اور غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ غفلت برتنے والے عملے کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے۔ محسن نقوی نے چڑیا گھروں کا سیکیورٹی آڈٹ کرنے کا حکم دیا، انہوں نے چڑیا گھر کی سیر کے یئے آنے والے بچوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کی ہدایت بھی کی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہکہ کمیٹی میں پنجاب وائلڈلائف کا کوئی نمائندہ شامل نہیں کیا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 25 سے 26 سال کے درمیان ہے جس کے جسم پر انجیکشن کے نشانات پائے گئے ہیں ۔
انتظامیہ کے مطابق یہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ شخص رات کے کسی وقت پنجرہ پھلانگ کر اس میں گھسا ہے جس پر شیروں نے صبح حملہ کیا۔







