وزارت اطلاعات ملک بھرکے پریس کلبوں سے رابطے فعال کریگی:مرتضیٰ سولنگی

صحافیوں کیلئے ای اوبی آئی کارڈز،تربیتی ورکشاپس کااعلان

میاں غفاراحمد کی سربراہی میں آل پروفیشنل نیوزپرسنز الائنس کے وفدکی وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سے ملاقات،صحافیوں کودرپیش مسائل پرتجاویزپیش

اسلام آباد:آل پروفیشنل نیوزپرسنز الائنس کے وفد کا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات شاہیرہ شاہد سے ملاقات کے بعد گروپ فوٹو، میاں غفار احمد،چوہدری اورنگ زیب، شعیب سلیم چوہدری ڈاکٹر حنان،شاہد صدیق، رانا سعید،مقدس ملک اعوان اور رانا نیاز علی موجودہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی آل پروفیشنل نیوزپرسنز الائنس کے وفدسےگفتگوکرتے ہوئے۔

زیرالتوامعاملات جلدازجلدحل کرنےکیلئےاخباری ملازمین کیلئے قائم کردہ عمل درآمدٹر یبونل ہر ماہ ایک کے بجائے تین دن صوبائی دارالحکومت لاہور میں موجود رہے گا

میرا اپنا تعلق سندھ کے پسماندہ علاقے سے ،دور درازعلاقوں کے صحافیوں کے مسائل سے بہت زیادہ آگاہ ،صحت سہولیات میں نمایاں بہتری لائی جائے گی:وزیراطلاعات

صحافیوں کے بچوں کیلئے سکول،بیٹی کی شادی پرجہیزسمیت دیگرتجاویزقابل عمل قرار،پرنسپل انفارمیشن آفیسر طارق خان کواےپی این اےکے صدرمیاں غفاراحمدسے را بطےمیں رہنےکی ہدایت

ملک کے کونے کونے سے ذمہ داریاں نبھانے والے میڈیا پرسنز کا سرکاری سطح پر بھی ریکارڈ مرتب ہونا چاہئے،اے پی این اےکی تجویزسےوفاقی وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی کااتفاق

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ وزارت اطلاعات ملک بھرکے پریس کلبوں سے رابطے فعال کریگی۔ انکی وزارت کے زیر اہتمام ملک بھر کے صحافی حضرات کی پروفیشنل استبداد میں اضافے، جدید صحافتی تقاضوں سے آگاہی اور صحافتی قوانین کی حدود و قیود بارے تربیتی ورکشاپس کا ملک بھر کے اہم شہروں میں انعقاد کیا جائے گا اور اخبارات کے ملازمین کے لئے قائم کردہ عمل درآمد ٹر یبونل ہر ماہ ایک کے بجائے تین دن صوبائی دارالحکومت لاہور میں موجود رہے گا تاکہ صحافی حضرات سے متعلقہ التوا شدہ امور کم وقت میں حل کئے جا سکیں۔کارکن صحافیوں کے لئے صحت کی سہولیات کی فراہمی اور ای او بی آئی رجسٹریشن کے معاملات میں بھی نمایاں بہتری لائی جائے گی کیونکہ میں دور دراز کے علاقوں سے سالہا سال سے دن رات کام کرنے والے عامل صحافیوں کے مسائل سے بہت زیادہ آگاہی رکھتا ہوں کہ میرا اپنا تعلق بھی سندھ کے ایک پسماندہ علاقے سے ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہارصدرمیاں غفاراحمدکی سربراہی میں آل پروفیشنل نیوزپرسنز الائنس( اے پی این اے) کے نمائندہ وفد سے پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کے کمیٹی روم میں تفصیلی ملاقات کے دوران کیا، اس موقع پر وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات شاہیرہ شاہد، پرنسپل انفارمیشن آفیسرطارق خان، ڈی جی ٹرینگ انسٹیٹیوٹ، ڈائریکٹر پبلسٹی حسین وزیر اور وزارت اطلاعات کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ اے پی این اے کے وفد کی قیادت مرکزی صدر میاں غفار احمد نے کی جبکہ اے پی این اے کے وفد میں شاہد صدیق، مقدس ملک اعوان، رانا نیاز علی، چوہدری اورنگ زیب ڈاکٹر حنان ایڈوائزر فارن افیئرز اے پی این اے، شعیب سلیم چوہدری ایڈووکیٹ لیگل ایڈوائزر اور رانا سعید شامل تھے

ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہنے والی ملاقات میں ملک بھر سے صحافت کے شعبے سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل کے حوالے سے متعدد تجاویز ایک ایک کرکے زیرتوجہ رہیں۔ وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ہمیں ہر سطح پر ڈائیلاگ کو فروغ دینا ہو گا اور ہم ملک بھر کے ہر شہر میں موجود پریس کلبوں سے بھی محکمانہ سطح پر روابط کا مربوط طریقہ کار وضع کریں گے تاکہ شہر شہر اور قریہ قریہ براہ راست حکومتی موقف، پالیسیاں اور فلاحی اقدامات بارے معلومات پہنچائی جا سکیں۔ گلوبل ویلج کے اس دور میں ہر علاقے میں حکومتی اقدامات اور معلومات تک رسائی کی تسلسل کے ساتھ فراہمی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے اے پی این اے کے وفد کی طرف سے پیش کی گئی اس تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ ملک کے کونے کونے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے والے میڈیا پرسنز کا سرکاری سطح پر بھی ریکارڈ مرتب ہونا چاہئے۔ میٹنگ میں اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی گئی کہ ایک مزدور کو جو تحفظ حاصل ہے وہ بھی میڈیا پرسنز کے لئے نہیں ہے۔ ایک مزدور سوشل سکیورٹی کے ادارے میں رجسٹرڈ ہے، اسے طبی سہولیات میسر ہیں، اس کو بیٹی کی شادی پر جہیز فنڈ ملتا ہے، اسکے بچوں کے لئے کم ہی سہی مگر لیبر سکول بھی میسر ہیں حتیٰ کہ مزدور کو ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ کا تحفظ بھی حاصل ہے جس کے تحت بڑھاپے میں اسے ہر ماہ باقاعدہ گزارہ الائنس ملتا رہتا ہے مگر اس طرح کی کوئی بھی سہولیات میڈیا پرسنز کے لئے نہیں ہیں جو کہ محض قواعد و ضوابط بنا کر ہی دی جا سکتی ہیں جس پروزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات شاہیرہ شاہد نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان تجاویز کو قابل عمل بنایا جا سکتا ہے۔ملاقات میں میڈیا پرسنز کے مسائل کے حل کے حوالے سے سے پرنسپل انفارمیشن آفیسر طارق خان کو رابطہ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں اور اے پی این اے کے صدر سے کہا گیا کہ وہ ان تجاویز پر پیش رفت کے حوالے سے طارق خان سے رابطے میں رہیں تاکہ میڈیا پرسنز کے مسائل کے تعین اور ان کے حل کے لئے راستہ نکالا جا سکے۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات شاہیرہ شاہد نے یقین دہانی کرائی کہ ای او بی آئی میں میڈیا پرسنز کی رجسٹریشن کے معاملات پر موثر حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ وزیراطلاعات ونشریات مرتضیٰ سولنگی نے اے پی این اے کے انٹرنیشنل لائیزان ونگ کے حوالے سے ڈاکٹر حنان کی مختصر بریفنگ پر ان کی ورکنگ کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے سافٹر امیج کے حوالے سے یہ ونگ بہت مثبت اور موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس موقع پر شعیب سلیم ایڈووکیٹ نے صحافتی قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے رکاوٹوں بارے آگاہ کیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں