بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)پاکستان ریلوے کے ملتان ڈویژن کے پاک پتن سیکشن میں مبینہ کر پشن ، غیر قانونی وصولیوں اور ریلوے اراضی پر قبضوں کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطا بق کمرشل اور رہائشی لحاظ سے قیمتی ریلوے اراضی پر مبینہ ملی بھگت کے ذریعے غیر قانونی الاٹمنٹ اور ماہانہ وصولیوں کا سلسلہ جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق پاک پتن سیکشن میں تعینات ایل ڈی سی کلرک محمد وسیم (ٹی ایل اے ملازم)، اسٹیشن ماسٹر میلسی محمد جمیل اور دو نجی افراد محمد سرور اور حمید کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر ریلوے کی کمرشل اور ممنوعہ زون کی اراضی پر مختلف افراد کو قبضہ دلوانے اور ان سے رقم وصول کرنے میں ملوث ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر مخصوص افراد سے تین سے چار ہزار روپے وصول کر کے کم مالیت کی ایم آر (منی رسید) کاٹی جاتی ہے، جبکہ بعض مقامات پر مکمل رقم سرکاری ریکارڈ میں ظاہر نہیں کی جاتی۔ 78 مور پھاٹک کے مقام پر فش والی شاپ سے بھی زائد رقم وصول کرنے اور کم رسید جاری کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں جبکہ ان کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ کوئی بھی پوچھنے ائے یا انکوائری ہو تو اپ نے اصل رقم نہیں بتانی۔یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ایک نجی شخص محمد حمید کے ذریعے نیلامی کا عمل کرایا جاتا ہے جو مبینہ طور پر فرنٹ مین کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ بعض قابضین سے ماہانہ بنیادوں پر رقوم اکٹھی کی جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ ناپسندیدہ یا غریب افراد کو ایف آئی آر اور بے دخلی کی دھمکیاں دے کر دباؤ ڈالنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ذرائع کے مطابق متعلقہ آڈٹ اور اکاؤنٹس برانچ کی جانب سے مؤثر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ الزام ہے کہ سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور وصولیوں کا مکمل ریکارڈ مرتب نہیں کیا جا رہا۔اس حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے متعلقہ افسران سے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم خبر کی اشاعت تک کوئی باضابطہ ردعمل موصول نہیں ہو سکا۔عوامی و سماجی حلقوں نے وفاقی وزارتِ ریلوے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قومی اثاثے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔







