اوچشریف ( جنرل رپورٹر) بوائلر دھماکا کیس میں نیا رخ: ایف آئی آر میں’’گیزر کہانی‘‘ شامل ، سب انسپکٹر اصغر گھمن کی مبینہ پانچ لاکھ کی ڈیل پر اصل ذمہ دار محفوظ۔تفصیلات کے مطابق علی مہدی کاٹن فیکٹری کی آڑ میں قائم مبینہ غیر قانونی ٹائر و آئل یونٹ میں ہونے والے بوائلر دھماکے کے بعد درج ایف آئی آر نے مزید سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے ذرائع کے مطابق پولیس تھانہ صدر احمد پور شرقیہ کے سب انسپکٹر محمد اصغر گھمن نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ایسا وقوعہ تحریر کیا جسے شہری حلقےانتہائی مضحکہ خیز اور حقائق کے منافی قرار دے رہے ہیں ایف آئی آر میں مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا گیا کہ دونوں مزدور نہانے کے لیے گیزر میں لکڑیاں ڈال رہے تھے کہ اسی دوران انہوں نے شرارتاً ایک دوسرے پر ڈیزل پھینک دیا جس سے آگ بھڑک اٹھی اور ان کے ہاتھ اور منہ جل گئے۔ اسے محض غفلت اور لاپرواہی قرار دے کر سنگین صنعتی حادثے کو ایک معمولی واقعہ بنا دیا گیا مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف نہ صرف زمینی حقائق سے متصادم ہے بلکہ اس سے بوائلر دھماکے کے شواہد اور فیکٹری کے اندر جاری صنعتی سرگرمیوں کو نظر انداز کیا گیا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر واقعہ صرف گیزر کے قریب پیش آیا تو پھر فیکٹری سیل کیوں کی گئی اور صنعتی حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کہاں گئیں؟ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سب انسپکٹر محمد اصغر گھمن نے مبینہ طور پر غیر قانونی فیکٹری کے مالک سے پانچ لاکھ روپے کی ڈیل کے عوض کمزور دفعات کے ساتھ یہ گیزر کہانی شامل کی تاکہ اصل مالکان اور سہولت کاروں کو قانونی گرفت سے بچایا جا سکے اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف اختیارات کا ناجائز استعمال ہے بلکہ انصاف کے نظام پر ایک سنگین دھچکا ہے ادھر عمارت کو کرایہ پر دینے والے خواجہ قاسم رضا اور کرایہ داری معاہدے میں بطور گواہ شامل شیخ لیاقت علی کے کردار پر بھی سوالات برقرار ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی صنعتی سرگرمی، غیر رجسٹرڈ مزدوروں کی موجودگی اور ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں عمارت مالک اور معاہدے کے گواہ کی ذمہ داری سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتاشہری و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایف آئی آر کے مندرجات کا فرانزک اور عدالتی جائزہ لیا جائے صنعتی حادثے کی آزادانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں مبینہ مالی لین دین اور کمزور دفعات لگانے کے فیصلے کی انکوائری کی جائے اور اصل ذمہ داران کو گرفتار کر کے متاثرہ مزدوروں کو مکمل طبی سہولیات اور معاوضہ فراہم کیا جائے عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک سنگین صنعتی حادثے کو گیزر میں لکڑیاں ڈالنے کی شرارت بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے تو پھر کسی بھی بڑے واقعے کو کاغذی کہانی میں بدلا جا سکتا ہے انہوں نے ریجنل پولیس آفیسر بہاول پور اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاول پور سے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔







