ملتان( شیخ نعیم ) پنجاب کی جیلوں کی مجموعی صورتحال پر تیار کی گئی ایک اہم اور تفصیلی رپورٹ نے صوبے کے نظامِ اصلاحات کے متعدد پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو پیش کی گئی جس میں جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی موجودگی طبی سہولیات کی کمی، عملے کی قلت اور بدعنوانی جیسے سنگین مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر کی جیلوں میں اس وقت 64 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں جبکہ مجموعی گنجائش اس تعداد سے کہیں کم ہے۔ صوبے کی 43 جیلیں اپنی اصل استعداد سے بڑھ کر بوجھ برداشت کر رہی ہیں جس کے باعث قیدیوں کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔ قیدیوں کی بڑی تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہے جو معمولی نوعیت کے مقدمات میں ملوث ہیں مگر طویل عدالتی کارروائی اور مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کے باعث برسوں سے جیلوں میں بند ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 17 ہزار 200 قیدی معمولی جرائم میں زیر حراست ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض جیلوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ اضافی سہولیات کی فراہمی کے عوض رشوت لینے اور ممنوعہ اشیاء کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ ایک جیل سے 150 موبائل فون برآمد ہونے کا ذکر بھی رپورٹ میں شامل ہےجو سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔طبی سہولیات کی صورتحال بھی تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 2000 سے زائد قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور انہیں مناسب علاج معالجہ میسر نہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں 900 کے قریب بیمار قیدی موجود ہیں جبکہ اڈیالہ جیل میں بھی 1100 کے لگ بھگ قیدی طبی مسائل کا شکار ہیں۔ ادویات، ماہر ڈاکٹروں اور تشخیصی آلات کی کمی کے باعث قیدیوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔خواتین قیدیوں اور ان کے ہمراہ رہنے والے بچوں کی صورتحال بھی رپورٹ میں نمایاں کی گئی ہے۔ جیلوں میں موجود بچوں کے لیے معیاری تعلیم، خوراک اور طبی سہولیات کا فقدان پایا گیا ہے۔ اصلاحی پروگراموں اور فنی تربیت کے مواقع بھی محدود ہیں جس کے باعث قیدیوں کی بحالی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔عملے کی کمی ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں تقریباً 22 ہزار اہلکاروں کی ضرورت ہے لیکن اس وقت صرف 14 ہزار کے قریب سٹاف موجود ہے۔ کئی اہم اسامیاں خالی پڑی ہیں جس سے نگرانی اور سیکیورٹی کے نظام میں کمزوری پیدا ہو رہی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متعدد قیدی 11 سال سے زائد عرصے سے اپنے مقدمات کے فیصلوں کے منتظر ہیں۔ قانونی معاونت کی کمی اور عدالتی نظام میں سست روی کے باعث جیلوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ جیل اصلاحات کے لیے فوری اور جامع اقدامات کیے جائیں۔ نئی جیلوں کی تعمیر موجودہ جیلوں کی توسیع، عدالتی نظام میں تیزی، قیدیوں کی درجہ بندی کا مؤثر نظام، طبی سہولیات میں بہتری اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سخت نگرانی کے اقدامات ناگزیر قرار دیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ حکام کو اصلاحی اقدامات کے لیے ہدایات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو جیلوں میں بڑھتا ہوا دباؤ نہ صرف انسانی حقوق کے مسائل کو جنم دے گا بلکہ اصلاحی نظام کی افادیت بھی متاثر ہوگی۔پنجاب کی جیلوں کی موجودہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ سفارشات پر کس حد تک اور کتنی جلدی عملدرآمد یقینی بنایا جاتا ہے ۔







