واشنگٹن،تہران،لندن(نیوزایجنسیاں)مشرق وسطیٰ پرجنگ کے بادل گہرے ہوگئے۔امریکی بحری بیڑہ تہران کے قریب پہنچ گیا،ایرانی لڑاکاطیارہ پراسرارطورپرگرکرتباہ ہوگیا۔تفصیل کےمطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع ہوگیا تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے۔ایسے وقت میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس نے بتایا کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کیریئر اسٹرائیک گروپ میں شامل اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا امریکی بحری بیڑہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب تیازی سے بڑھ رہا ہے۔ادھرایران کے مغربی صوبے ہمدان میں ایک لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق لڑاکا طیارے نے دو پائلٹس کے ہمراہ پرواز بھری تھی۔یہ طیارہ 31 ویں ٹیکٹیکل فائٹر اسکواڈرن سے تعلق رکھتا تھا۔ دوران پرواز مشکوک صورت حال کو دیکھتے ہوئے پائلٹس سے واپسی کا فیصلہ کیا۔ہوا بازی کے ماہر نے العربیہ کو بتایا کہ پائلٹس کسی حد تک طیارے کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ہمدان کے ایئربیس تک واپس لانے میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔انھوں نے مزید بتایا کہ لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے جب گیئر کھولے گئے تو اچانک طیارہ ہچکولے کھاتے ہوئے زمین بوس ہوگیا۔ترجمان ایرانی فوج نے بتایا کہ طیارے میں سوار دو پائلٹس میں سے ایک جان کی بازی ہار گیا جب کہ دوسرا پائلٹ محفوظ رہا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑاکا طیارے نے معمول کی تربیتی پرواز بھری تھی اور تاحال حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔ ایرانی فضائیہ کے دفتر برائے تعلقاتِ عامہ نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق محدود حملے پر غور کامقصد ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے، ایران معاہدے کو قبول نہ کرے تو حملے کو وسیع جنگ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔دوسری جانب برطانیہ نے ایران کے خلاف کارروائی کے لیے امریکا کو اپنے فوجی اڈے دینے سے انکار کردیا۔برطانوی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت نے واضح کردیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کیلئے امریکی افواج کو برطانیہ کے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واضح قانونی جواز کے بغیر ایران پر حملے میں شرکت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ادھرایران نے امریکی جارحیت کی صورت میں فیصلہ کن جواب سے خبردار کردیا۔اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات فوجی جارحیت کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔خط میں کہا گیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی کشیدگی میں اضافہ مقصد ہے، تاہم اگر حملہ کیا گیا تو اپنے دفاع میں بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کریں گے۔ایران نے مزید کہا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے فوجی اڈوں، تنصیبات اور دیگر اثاثوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ایرانی مشن نے اپنے خط میں امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکا کو ڈیگو گارشیا اور RAF فیئر فورڈ کے ایئر فیلڈ استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔







