تمام ڈگری پروگرامز میں اے آئی کا مضمون متعارف کرانیکی ہدایت

ملتان (سٹاف رپورٹر )ایچ ای سی نے ملکی اعلیٰ تعلیمی نظام میں ایک اہم اور دور رس فیصلہ کرتے ہوئے ملک بھر کی تمام سرکاری و نجی جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ ہر انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرام میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مشتمل تین کریڈٹ آور کا لازمی کورس شامل کریں۔ یہ فیصلہ 18 فروری 2026 کو جاری کردہ باضابطہ مراسلے کے ذریعے کیا گیا، جس پر ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کے دستخط ہیں اور اس کا اطلاق فال 2026 کے تعلیمی سیشن سے ہوگا۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اکیسویں صدی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایک انقلابی قوت کے طور پر ابھری ہے جو تعلیم، صحت، معیشت، صنعت اور طرز حکمرانی سمیت زندگی کے ہر شعبے کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو اس جدید ٹیکنالوجی کی بنیادی سمجھ، عملی استعمال اور اخلاقی پہلوؤں سے آگاہ کریں تاکہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بن سکیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ AI کی تعلیم اب کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ مراسلے کے مطابق یہ لازمی کورس مختلف صورتوں میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ جامعات اسے بطور اختیاری مضمون، بین الشعبہ جاتی کورس یا متعلقہ پروگرام کے اندر ضم شدہ (Allied) مضمون کے طور پر شامل کر سکتی ہیں، تاہم تین کریڈٹ آور کا یہ کورس ہر ڈگری پروگرام کا حصہ بنانا لازم ہوگا۔ ایچ ای سی نے اداروں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے پروگرام کی نوعیت کے مطابق نصاب ترتیب دیں، مگر بنیادی اور اخلاقی عناصر کی شمولیت ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ کورس کے مجوزہ خدوخال میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا تعارف، اس کی بنیادی ٹیکنالوجیز، مختلف شعبہ جات میں اس کے استعمالات، اور اخلاقی تقاضے شامل ہوں گے۔ خاص طور پر تعصب (Bias) کی روک تھام، شفافیت، احتساب، ڈیٹا پرائیویسی اور سماجی اثرات جیسے موضوعات کو نصاب کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے تاکہ طلبہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہارت حاصل کریں بلکہ اسے ذمہ دارانہ اور اخلاقی انداز میں بروئے کار لانے کے قابل بھی ہوں۔ ایچ ای سی کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستانی طلبہ کو ڈیجیٹل خواندگی اور جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ عالمی علم کی معیشت میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ AI سے متعلق بنیادی آگاہی کے بغیر طلبہ کے لیے بین الاقوامی معیار کی ملازمتوں اور تحقیقی مواقع میں آگے بڑھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے نصاب میں AI کی شمولیت ملکی افرادی قوت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ یہ ہدایات ملک بھر کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز، ریکٹرز اور ادارہ جاتی سربراہان کو ارسال کی گئی ہیں جبکہ چیئرمین ایچ ای سی اور تمام علاقائی مراکز کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اسٹرکچرل اصلاح قرار دیا ہے جو نہ صرف نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرے گا بلکہ ملک کو ٹیکنالوجی پر مبنی عالمی معیشت کے ہم پلہ لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں