ایچ ای سی کے بڑے فیصلے: اعلیٰ تعلیم کیلئے نئی ترجیحات طے، سلیکشن بورڈز باقاعدگی سے ہونگے

ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) کا 13واں ہنگامی اجلاس ایگزیکٹو بلاک اسلام آباد میں چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی و صوبائی نمائندگان، ممتاز ماہرین تعلیم، وائس چانسلرز اور کمیشن کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جبکہ نئے چیئرمین، ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور نو منتخب اراکین کا باضابطہ خیرمقدم کیا گیا۔ بعض اراکین علالت کے باعث شریک نہ ہو سکے تاہم انہوں نے پیشگی معذرت سے سیکریٹریٹ کو آگاہ کر دیا تھا۔چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنے ابتدائی خطاب میں کمیشن کی آئندہ حکمتِ عملی اور ترجیحات کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے ایکریڈیٹیشن اور کوالٹی ایشورنس فریم ورک کو مضبوط اور مؤثر بنانے، ایچ ای سی اور جامعات میں ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ، پالیسی سے ہم آہنگ اور قومی ضروریات پر مبنی تحقیق کے فروغ، اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ (ODL) پالیسی کے ذریعے مجموعی انرولمنٹ میں اضافے، گریجویٹس کی ملازمت پذیری بہتر بنانے، سکل بیسڈ ٹریننگ، اکیڈمیا اور صنعت کے مابین روابط مضبوط کرنے، Education Testing Council (ای ٹی سی) کی کارکردگی کے جائزے، قومی و بین الاقوامی رینکنگ میں بہتری اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی جیسے نکات کو مرکزی حیثیت دی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایچ ای سی کو قومی تعمیر و ترقی میں دوبارہ کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے متحرک کیا جائے گا۔وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ پروگرام (HEDP) کے تحت ڈیجیٹل اقدامات اور نئے کوالٹی اشورنس فریم ورک کے فوری نفاذ کو’’لو ہینگنگ ایریاز‘‘قرار دیتے ہوئے فوری عملدرآمد کی تجویز دی۔اجلاس میں Islamabad High Court کے احکامات کی روشنی میں رِٹ پٹیشن نمبر 35/2025 (ڈاکٹر سمیع الرحمٰن و دیگر بنام ایچ ای سی) پر تفصیلی غور کیا گیا۔ یہ درخواست بی پی ایس فیکلٹی کی ترقیوں کے طریقہ کار سے متعلق تھی۔ عدالت نے 27 نومبر 2025 اور 21 جنوری 2026 کے احکامات میں معاملہ کمیشن کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی تھی۔کمیشن کے سامنے اے پی یو بی ٹی اے کے نمائندگان نے اپنا مؤقف پیش کیا۔ تفصیلی بحث کے بعد کمیشن نے موجودہ تقرری و سروس اسٹرکچر پر اصولی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ تمام جامعات میں سلیکشن بورڈز باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں اور مشتہر اسامیوں پر تقرریاں مقررہ مدت میں مکمل کی جائیں۔ صوبائی حکومتوں سے کہا جائے کہ جامعات کو عمومی تقرری و ترقی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ وائس چانسلرز کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس معاملے پر آگاہی اور حساسیت پیدا کی جائے۔ جہاں اسامیوں کی کمی کے باعث اساتذہ کی ترقی رکی ہو وہاں نئی اسامیاں تخلیق کی جائیں۔کمیشن نے “HEC Journals & Publications Policy 2024” میں کی گئی ترامیم کی توثیق کرتے ہوئے 5 نومبر 2025 سے ان پر عملدرآمد کی منظوری دی، تاہم weighted authorship ماڈل سے متعلق شق 6(الف) کو مستثنیٰ رکھا گیا۔وزیراعظم کے مختلف قومی منصوبوں جیسے نیشنل انوویشن ایوارڈز، گرین یوتھ موومنٹ، لیپ ٹاپ اسکیم اور کامیاب جوان ٹیلنٹ ہنٹ اسپورٹس لیگ کے تحت سات ملازمین کی تین تا چھ ماہ کی قلیل مدتی کنٹریکٹ تقرریوں سے کمیشن کو آگاہ کیا گیا۔ کمیشن نے ان تقرریوں کو نوٹ کرتے ہوئے سخت ہدایت جاری کی کہ مستقبل میں تمام کنٹریکٹ، ایڈہاک یا ڈیپوٹیشن تقرریاں صرف منظور شدہ اسامیوں پر، قواعد کے مطابق اور باقاعدہ اشتہار کے ذریعے کی جائیں، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی دوبارہ تقرری حکومتی اجازت کے بغیر نہ ہو۔ای ٹی سی میں پانچ کلیدی عہدوں پر چھ ماہ کی ایڈہاک تقرریوں کی توثیق کی گئی تاکہ ٹیسٹنگ آپریشن متاثر نہ ہو۔ تاہم کمیشن نے ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس میں ای ٹی سی کے امور پر جامع ایجنڈا پیش کیا جائے اور اس وقت تک نئی بھرتیوں کا عمل روک دیا جائے۔کمیشن نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے متعدد آفس میمورنڈمز اپنانے کی منظوری دی، جن میں نان کور سروسز کی آؤٹ سورسنگ، ری ایمپلائمنٹ کی صورت میں پنشن قواعد، پراجیکٹ پے اسکیلز میں تقرریاں، معذور ملازمین کے خصوصی کنوینس الاؤنس میں اضافہ اور وفاقی پنشنرز کے لیے پنشن میں اضافے کے معاملات شامل ہیں۔اہم فیصلے کے تحت کمیشن نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کی تنخواہ کو ایم پی ون اسکیل کے زیادہ سے زیادہ پیکج پر فکس کرنے کی منظوری دے دی، جس کا اطلاق 28 نومبر 2025 سے ہوگا۔ اس معاملے پر غور کے دوران انہوں نے اجلاس سے خود کو الگ رکھا۔ کمیشن نے فنانس ڈویژن کے متعلقہ آفس میمورنڈم میں دی گئی بعض شرائط میں نرمی کرتے ہوئے یہ منظوری دی۔اجلاس کے اختتام پر اراکین نے متعدد اہم تجاویز پیش کیں۔ ڈاکٹر سروش ہاشمت لودھی نے بین الصوبائی ہم آہنگی کے لیے مشترکہ میکنزم اور ایکریڈیٹیشن کونسلز کے ساتھ جوائنٹ ورکنگ گروپ کی تجویز دی۔ ڈاکٹر سید سہیل ایچ نقوی نے گریجویٹس کے معیار، ریگولیٹری اوور ریچ کے تاثر کا ازالہ، ایکریڈیٹیشن کونسلز کی ایکریڈیٹیشن اور کمیشن کے باقاعدہ ماہانہ اجلاسوں کی تجویز دی۔ ڈاکٹر ظہور احمد بزئی نے ریجنل سینٹرز کی مضبوطی پر زور دیا۔ ڈاکٹر عمران اللہ مروت نے نیشنل کوالٹی اشورنس کمیٹی (NQAC) کا اجلاس جلد بلانے اور کیو ای سی و اورک دفاتر کو فعال بنانے کی ضرورت اجاگر کی۔ ڈاکٹر سید ظہور حسن نے اعلیٰ تعلیم میں “rigor اور relevance” کو بنیادی اصول قرار دیا جبکہ ڈاکٹر ثمرین حسین نے ادارہ جاتی خودمختاری اور مالی حالات کے پیش نظر مختلف ترغیبی ماڈلز متعارف کرانے کی سفارش کی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں