جعلی این او سی، اصلی دھوکہ، ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم نے قانون اور عوام دونوں کو خرید لیا

ملتان (سپیشل رپورٹر) ’’روزنامہ قوم‘‘ کی نشاندہی کے باوجود ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم ملتان کے غیر قانونی کاروبار میں کسی قسم کی سست روی نہیں آئی۔ اسکیم انتظامیہ نے بغیر مکمل این او سی (NOC) کے باوجود نہ صرف پلاٹوں کی فروخت جاری رکھی ہوئی ہے بلکہ خریداروں کو گمراہ کرنے کے لیے واسا ملتان کا ایک جزوی این او سی بطور قانونی اجازت نامہ پیش کیا جا رہا ہے۔تحقیقاتی ذرائع کے مطابق یہ این او سی دراصل مشروط اور محدود نوعیت کا ہے، جسے سکیم مالکان عوام کے سامنے مکمل منظوری کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ 30 مئی 2024 کو واسا (MDA) ملتان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر 1911/SO(T)/WASA میں واضح طور پر درج ہے کہ:“واسا ملتان اس ہاؤسنگ سکیم کو پانی اور سیوریج کی فراہمی کا پابند نہیں، اور سروس ڈیزائن کی منظوری سے قبل کسی بھی ترقیاتی سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔”دستاویز میں یہ بھی تحریر ہے کہ اسکیم کے علاقے میں واسا کا کوئی ٹیوب ویل یا سیوریج نیٹ ورک موجود نہیں، لہٰذا ڈیولپر اپنی لاگت پر علیحدہ نظام بنانے کا ذمہ دار ہوگا۔ مزید یہ کہ اگر کسی بھی شرط کی خلاف ورزی پائی گئی تو این او سی فوراً منسوخ تصور ہوگا اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس کے باوجود ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم کی انتظامیہ اسی نوٹیفکیشن کو عوام کے سامنے مکمل “کلیئرنس سرٹیفکیٹ” کے طور پر دکھا رہی ہے، تاکہ پلاٹوں کی فروخت جاری رکھی جا سکے۔ دوسری جانب سادہ لوح شہری، این او سی کی پیچیدگیوں سے لاعلم ہو کر، اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اس “مشروط اجازت” کے جال میں پھنسا رہے ہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جب ایک دستاویز میں صاف طور پر لکھا ہے کہ “واسا پانی اور سیوریج فراہم کرنے کا پابند نہیں” تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسے مکمل قانونی منظوری قرار دیا جائے؟ اس طرح کے گمراہ کن حربے قانونی فراڈ اور عوامی استحصال کے مترادف ہیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ این او سی کی شرائط کی خلاف ورزی اور غلط بیانی کے تحت Pakistan Penal Code Section 420 (فراڈ)، Punjab Development of Cities Act، اور Anti-Fraud Act کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اب تک نہ ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (MDA) اور نہ واسا کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی سامنے آئی ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پنجاب فوری طور پر ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے، اور جعلی یا گمراہ کن این او سی دکھا کر عوام کو دھوکہ دینے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔عوامی سوال:جب واسا خود کہہ چکا ہے کہ سکیم کو پانی یا سیوریج کی سہولت کی ضمانت نہیں تو پھر کس بنیاد پر یہ پلاٹ فروخت کیے جا رہے ہیں، اور ادارے کیوں خاموش ہیں؟

شیئر کریں

:مزید خبریں