لودھراں: سٹیڈیم روڈ پر صوبائی حکومت کی اربوں مالیتی اراضی پر مافیا قابض ،جعلی رجسٹریاں

ملتان(جنرل رپورٹر) لودھراں شہر کے سب سے مہنگے اور کمرشل ترین علاقے سٹیڈیم روڈ پر صوبائی حکومت کی اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی پر مبینہ طور پر قبضہ مافیا نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جبکہ محکمہ مال کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی فردِ ملکیت، غیر قانونی رجسٹریاں، ریکارڈ میں ردوبدل اور پرانے عدالتی حکم امتناعی کو دانستہ طور پر ریکارڈ میں برقرار رکھنے کا انکشاف ہوا ہے ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی ملکیتی 58 کنال 8 مرلے اراضی (اربن) جو سابقہ نالہ شیخواہ کے رقبہ میں کھیوٹ ملک خمیسہ روڈ سے ملتان روڈ تک واقع ہے اب ایک بڑے لینڈ مافیا نیٹ ورک کے قبضے میں چلی گئی ہے۔ اس سرکاری رقبہ پر مبینہ طور پر بااثر افراد، ڈاکٹرز، پراپرٹی ڈیلرز اور دیگر شخصیات نے ناجائز طور پر کوٹھیاں، پلازے، کمرشل مارکیٹیں اور دکانیں تعمیر کر رکھی ہیں۔20/20 ہزار ماہانہ کرایہ پرسرکاری اراضی پر عیاشی کی جانے لگی ۔مقامی شہری جمشید علی جس نے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا جس کے مطابق اس سرکاری رقبہ پر تعمیر شدہ پلازوں اور دکانوں کو بھاری کرایوں پر دیا جا رہا ہے۔ بعض جگہوں پر ایک ایک دکان 20 ہزار روپے ماہانہ کرایہ پر چل رہی ہے جبکہ سرکاری خزانے کو اس قبضے کے باعث روزانہ کی بنیاد پر بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔درخواست گزار اور شہریوں کے مطابق نالہ شیخواہ کئی سال قبل ختم ہو چکا ہے اور یہ مکمل رقبہ صوبائی حکومت کی ملکیت ہے، مگر قبضہ مافیا نے اس رقبہ کو ذاتی پراپرٹی ظاہر کرکے قبضہ بھی برقرار رکھا ہوا ہے اور اب مبینہ طور پر جعلی رجسٹریوں کے ذریعے اسے قانونی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض افراد نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا تھا جو بعد ازاں ختم ہو چکا اور فیصلہ صوبائی حکومت کے حق میں آ چکا ہے۔تاہم حیران کن طور پر پٹواری ریکارڈ میں آج بھی حکم امتناعی درج ہے، جس کی بنیاد پر قبضہ مافیا سرکاری اراضی کو اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے اور کھلے عام فائدہ اٹھا رہا ہے۔درخواست میں بتایا گیا ہے کہ سابقہ نالہ شیخواہ کا رقبہ کھیوٹ نمبر 349 میں شامل ہے، جس کا رقبہ 58کنال 8 مرلے بتایا گیا ہے۔جبکہ اس کے پیچھے واقع کھیوٹ نمبر 348 میں 276 کنال 10 مرلے 5 سرسائی درج ہے۔اہلیان کے مطابق اصل کھیل یہ ہے کہ فردِ ملکیت کھیوٹ نمبر 348 سے جاری کی جاتی ہے جبکہ قبضہ، نقل اور عملی قبضہ کھیوٹ نمبر 349 (سرکاری اراضی) پر منتقل کرایا جاتا ہےجس سے سرکاری رقبہ پر قبضہ بھی ہو رہا ہے اور جعلی رجسٹریاں بھی بن رہی ہیں۔پٹواریوں پر سنگین الزامات، منشیوں کا خفیہ دفتر بھی قائم شہری نے الزام لگایا ہے کہ سابقہ پٹواری ملک اللہ بخش اور بشیر کسرا پٹواری کے دور میں بھی یہی طریقہ کار جاری رہا، مگر آج تک کسی افسر نے مؤثر کارروائی نہیں کی۔درخواست گزار کے مطابق موجودہ پٹواری کاشف علی ظفر نے شہر میں ایک خفیہ مکان کرائے پر لے رکھا ہے، جہاں مبینہ طور پر اپنے منشی جن میں ایک اس کا سگا ماموں قاسم،ظفر جھنج اور زوار کو بیٹھا کر جعلی فردِ ملکیت جاری کی جاتی ہیں جبکہ آن لائن ریکارڈ اپ ڈیٹ کے نام پر بھی ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق موجودہ پٹواری پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ سابقہ تاریخوں کی جعلی فردِ ملکیت بنا کر لوگوں کی رجسٹریاں پاس کروا رہا ہے، جس سے حکومت پنجاب کی زمین کی بندربانٹ جاری ہےاسٹیڈیم روڈ اور بھٹہ روڈ پر نئی غیر قانونی رجسٹریاں درخواست میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اسٹیڈیم روڈ اور بھٹہ روڈ کے علاقوں میں سرکاری اراضی پر نئی رجسٹریاں بھی کی گئی ہیں، جن کی مکمل چھان بین اور رجسٹری ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی فوری ضرورت ہے۔ کامران فوٹو سٹوڈیو جو شیخو تالاب کے قریب تعمیر ہے، وہ بھی مبینہ طور پر سرکاری اراضی پر قائم ہے اور اس حوالے سے فیصلہ بھی صوبائی حکومت کے حق میں آ چکا ہے، مگر تاحال قبضہ ختم نہیں کروایا جا سکا۔اہالیان لودھراں شہر نے ڈپٹی کمشنر لودھراں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اراضی کا فوری ریکارڈ قبضہ میں لیا جائےناجائز قابضین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائےجعلی رجسٹریوں اور فردِ ملکیت کے پورے نیٹ ورک کی انکوائری کی جائے محکمہ مال کے ملوث پٹواریوں اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے موقع پر جا کر نقشہ جات، پلازہ جات، مکانات اور دکانوں کا مکمل سروے کرتے ہوئے اربوں روپے کی قیمتی جائیداد واگزار کرائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں