ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب بھر کی سرکاری جامعات میں مالیاتی نگرانی کے نظام سے متعلق سامنے آنے والے انکشافات کے بعد اب ایک اور چونکا دینے والی پرت کھل گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری اداروں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہونے والے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ریزیڈنٹ آڈیٹرز کو خطے کے اعتبار سے مختلف نوعیت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور یہ سہولیات جغرافیائی سمت کے ساتھ ’’اپ گریڈ‘‘ہوتی چلی جاتی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں چند ہی ادارے ریزیڈنٹ آڈیٹرز کو سرکاری گاڑی فراہم کرتے ہیںجبکہ اپر پنجاب میں تقریباً تمام بڑے اداروں میں گاڑی کی سہولت معمول بن چکی ہے۔ اس سے بھی آگے جب معاملہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی تک پہنچتا ہے تو نہ صرف سرکاری گاڑی بلکہ ڈرائیور، حتیٰ کہ گھر سے پک اینڈ ڈراپ جیسی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ تفاوت محض انتظامی سہولت نہیں بلکہ ایک ’’غیر تحریری مراعاتی کلچر‘‘کی نشاندہی کرتا ہے۔ایک ریزیڈنٹ آڈیٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اداروں میں اصل مسئلہ سہولیات نہیں بلکہ انحصار کا ماحول ہے۔ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز ہماری اے سی آر (سالانہ خفیہ رپورٹ) لکھتے ہیں۔ جب آپ کی کارکردگی کی رپورٹ اسی انتظامیہ کے سربراہ کے ہاتھ میں ہو جس کا آپ نے آڈٹ کرنا ہے تو مکمل غیر جانبداری برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چند افراد کو چھوڑ کر اکثریت اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کرتی ہے کیونکہ ان کا متعلقہ ادارے میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہوتا، تاہم نظام کی ساخت ایسی ہے جو مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کو جنم دے سکتی ہے۔
’’اگر سہولیات اور کارکردگی رپورٹ دونوں کا کنٹرول اسی انتظامیہ کے پاس ہو جس کی جانچ پڑتال کرنی ہے تو سوالات تو اٹھیں گے،‘‘انہوں نے اعتراف کیا۔تعلیمی و قانونی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کی کلاسیکی مثال بن سکتی ہے۔ اگر ایک آڈٹ افسر کو اسی ادارے سے مالی یا غیر مالی سہولت مل رہی ہو جس کی مالیاتی نگرانی اس کے سپرد ہے تو آڈٹ کی آزادانہ حیثیت متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی جڑ اس انتظامی ڈھانچے میں ہے جہاں آڈیٹر کی سالانہ کارکردگی رپورٹ براہِ راست جامعہ کے سربراہ کے ذریعے مرتب ہوتی ہے، حالانکہ تقرری اور انتظامی کنٹرول کا اختیار آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے پاس ہے۔اساتذہ رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر احتساب کا نظام علاقائی بنیادوں پر مراعاتی فرق کا شکار ہو جائے تو یہ پورے صوبے میں مالی نظم و ضبط کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق جنوبی پنجاب میں کم سہولیات اور وفاقی دارالحکومت میں زیادہ مراعات کا رجحان نہ صرف انتظامی عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس سے شفافیت پر بھی سوالات جنم لیتے ہیں۔سول سوسائٹی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیپوٹیشن پر تعینات آڈیٹرز کی سہولیات اور اے سی آر کے طریقہ کار کو ازسرِنو ترتیب دیا جائے تاکہ آڈٹ کا عمل مکمل طور پر آزاد، خودمختار اور دباؤ سے پاک ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آڈٹ کی غیر جانبداری پر عوامی اعتماد متزلزل ہوا تو اس کے اثرات صرف جامعات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے سرکاری مالیاتی نظم پر پڑیں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام اس بڑھتے ہوئے تضاد اور مبینہ مراعاتی نظام کا نوٹس لیتے ہیں یا نہیں—یا پھر جنوبی پنجاب سے لے کر اسلام آباد تک یہ’’سہولتوں کا سفر‘‘ اسی طرح جاری رہے گا؟۔







