کامسیٹس ساہیوال کیمپس کا کارنامہ، ٹی ٹی ایس پروفیسرانچارج ایڈمنسٹریشن مقرر

ملتان (سٹاف رپورٹر) کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس میں جاری ایک حالیہ آفس آرڈر نے انتظامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایچ آر ڈیپارٹمنٹ، ساہیوال کیمپس کی جانب سے 16 فروری 2026 کو جاری کیے گئے حکم نامے کے تحت ڈاکٹر اویس احسان جو کہ بائیوسائنسز ڈیپارٹمنٹ کے ٹینیورڈ ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، کو دو سال کے لیے’’انچارج ایڈمنسٹریشن‘‘مقرر کر دیا گیا ہے۔ آفس آرڈر کے مطابق انہیں روزمرہ انتظامی امور، ایچ آر، پروکیورمنٹ، اسٹیٹ مینجمنٹ، سکیورٹی، ٹرانسپورٹ، مینٹیننس، ہاسٹلز، کیفے ٹیریا، ہاؤس کیپنگ، میڈیکل اور طلبہ معاونتی خدمات سمیت وسیع اختیارات سونپے گئے ہیں۔ مزید برآں پی پی آر اے قواعد، آڈٹ کمپلائنس اور ادارہ جاتی ایس او پیز پر عملدرآمد کی نگرانی بھی ان کی ذمہ داری ہو گی جبکہ ہر سہ ماہی کارکردگی رپورٹ کیمپس ڈائریکٹر کو پیش کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ تنقیدی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک تدریسی و تحقیقی پس منظر رکھنے والے ٹی ٹی ایس (Tenure Track System) فیکلٹی ممبر کو خالصتاً انتظامی ذمہ داریاں دینا’’رائٹ پرسن فار رائٹ جاب‘‘کے اصول سے انحراف کے مترادف ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی ایس اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری تدریس، تحقیق اور اکیڈمک ترقی ہے، جبکہ انتظامی امور کے لیے باقاعدہ ایڈمنسٹریٹو کیڈر اور تجربہ کار افسران موجود ہوتے ہیں۔ مزید سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس تقرری سے تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں پر اثر نہیں پڑے گا؟ کیا یہ فیصلہ میرٹ اور پیشہ ورانہ تخصیص کے بجائے انتظامی سہولت کی بنیاد پر کیا گیا؟ اور کیا اس سے دیگر اساتذہ میں بے چینی پیدا نہیں ہوگی؟ ادارے کے اندر بعض حلقے اسے “اختیارات کے ارتکاز” اور “دوہری ذمہ داریوں” کا غیر متوازن ماڈل قرار دے رہے ہیں، جہاں ایک ہی فرد سے بیک وقت اکیڈمک اور مکمل انتظامی نظم و نسق سنبھالنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اس معاملے پر COMSATS Lahore Campus کے اسٹاف صدر نصیر احمد نے سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا TTS فیکلٹی ایڈمنسٹریشن میں ایڈمن کی جاب کر سکتی ہے؟ اداروں میں اصول واضح ہونا چاہیے — RIGHT PERSON FOR RIGHT JOB۔ اگر ایک اکیڈمک کو مکمل انتظامی عہدہ دیا جائے گا تو نہ اکیڈمک انصاف ہو گا اور نہ ایڈمنسٹریشن مؤثر رہ سکے گی۔” نصیر احمد نے مطالبہ کیا کہ اس تقرری پر پالیسی سطح پر وضاحت کی جائے تاکہ مستقبل میں ادارہ جاتی نظم و نسق اور اکیڈمک معیار پر کوئی سوال نہ اٹھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں