فوڈ اتھارٹی ملتان، ٹیموں کے ٹھاٹھ باٹھ، کارووائیاں نہ ریکارڈ، ترجمان کی آئیں بائیں شائیں

ملتان (زین العابدین سے) ضلع ملتان میں فوڈ اتھارٹی کی آٹھ آپریشنل ٹیمیں تاحال شفافیت کے فقدان کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔ ہر ٹاؤن میں ایک ایک ٹیم اور دودھ و گوشت کے لیے دو مخصوص ٹیمیں ہیں، مگر ان کی روزانہ کارروائیوں، جرمانوں اور وارننگز کے متعلق محکمہ کے پاس کوئی واضح ریکارڈ دستیاب نہیں۔ ترجمان کے مطابق کارروائیاں جاری ہیں، تاہم جب اعداد و شمار طلب کیے جاتے ہیں تو محض مبہم بیانات دئیے جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق فوڈ اتھارٹی کے فیلڈ عملے کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں کی جاتی ہیں مگر نہ تو جرمانوں کی تفصیل سامنے آتی ہے اور نہ ہی اس بات کی وضاحت کی جاتی ہے کہ کن دکانوں یا ہوٹلوں کو نوٹسز جاری ہوئے۔ اسی طرح وارننگ اور معطلی کے ریکارڈ کی عدم دستیابی نے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔محکمہ فوڈ اتھارٹی کے ترجمان یاسر عرفات کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے فوڈ اتھارٹی کو فوڈ بزنسز کوسیل کرنے سے روک رکھا ہے اس لیے عملہ کسی ادارے کو بند نہیں کر سکتا۔ تاہم یہ وضاحت خود ایک نیا تنازع پیدا کر رہی ہے، کیونکہ عدالت کے اس مبینہ حکم کا کوئی تحریری حوالہ عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا۔ محکمہ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی قانونی ابہام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض اہلکار رشوت اور بھتہ خوری میں ملوث ہو چکے ہیں جبکہ معمولی خلاف ورزیوں پر جرمانوں کی آڑ میں مبینہ طور پر رقم وصولی کا سلسلہ جاری ہے۔میڈیا کو جنوبی پنجاب سے بمشکل ایک کارروائی کی تفصیل فراہم کی جاتی ہے، اور اس میں بھی فوڈ اتھارٹی افسران کی کارکردگی کی تعریف کی جاتی ہے جبکہ ملزمان کے نام کی تفصیل شامل نہیں ہوتی۔ یوں محکمہ اپنی کارکردگی کو تشہیری انداز میں پیش کر کے عملی نتائج کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوڈ اتھارٹی واقعی عوامی صحت کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے تو اسے روزانہ یا ہفتہ وار بنیادوں پر کارروائیوں کی تفصیل شائع کرنی چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کس علاقے میں کیا کارروائی ہوئی اور کتنی دکانوں یا ہوٹلوں کو نوٹس یا جرمانے کیے گئے۔ اس کے بغیر محکمہ کی ساکھ اور شفافیت دونوں مشکوک رہیں گی۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی اداروں کے لیے محض فوٹو سیشنز یا پریس ریلیز کافی نہیں ہوتیں۔ عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لیے ریکارڈ، اعداد و شمار اور انسپکشن رپورٹیں آن لائن دستیاب ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق اگر محکمہ واقعی عدالت کے فیصلے کے تحت سیل نہیں کر سکتا تو اسے کھلے عام متعلقہ عدالتی حکم نامہ جاری کرنا چاہیے تاکہ عوامی ابہام ختم ہو۔ادھر شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جب کارروائی کے نتائج خفیہ رکھے جاتے ہیں تو اہلکاروں کو من مانی کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بعض اوقات معمولی بہانے سے کارروائی کی دھمکی دے کر بھتہ وصول کیا جاتا ہےاور اس کے بعد رپورٹ فائل تک محدود رہ جاتی ہے۔اس حوالے سےفوڈ اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیاں قواعد و ضوابط کے مطابق ہو رہی ہیں اور محکمہ صحت عامہ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ تاہم شہری حلقے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ محکمہ نہ صرف کارروائیوں کی تفصیلات شائع کرے بلکہ شکایات کے اندراج اور انکوائری کے لیے ایک آزاد نظام بھی قائم کرے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔ملتان میں فوڈ اتھارٹی کے کردار پر بڑھتی ہوئی تنقید اس حقیقت کو آشکار کر رہی ہے کہ ادارہ فیلڈ میں تو سرگرم ہے مگر جوابدہی کے نظام سے خالی۔ اگر شفافیت کو ادارے کی ترجیح نہ بنایا گیا تو یہ محض ایک اور بیوروکریٹک ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا، جو عوام کی صحت کے تحفظ کے بجائے اپنی تشہیر میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں