ملتان(واثق رؤف)ریلوے ملتان ڈویژن میں65لاکھ روپے کا غبن پکڑا گیا۔غبن رابطہ ایپ کے ذریعے ٹکٹ بنانے کے بعد ریفنڈ کرکے کیا جارہا تھا۔تحقیقات میں غبن ثابت ہونے پر ڈویژنل ریلوے انتظامیہ نے ایک سپیشل ٹکٹ ایگزمینر کی تنزلی کردی دیگر کے خلاف تحقیقات جاری۔ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے کی ہدایت پر ایک ڈویژنل آفیسر نے کاروائی کرتے ہوئے رابطہ ایپ میں موجود نقص کے ذریعےکیاجارہالاکھوں روپے کا غبن پکڑ لیا۔دیگر ڈویژنوں میں ایس ٹی ایز اور ہیڈ کوارٹر شعبہ آئی ٹی کےاہم عہدہ پرتعینات افسران کےملوث ہونے کاامکان اگر دیگر ڈویژنوں میں بھی اسی نوعیت کا فراڈ کیا جارہا ہے تو ماہانہ کروڑوں روپےلوٹےجانے کا امکان ہے۔ریلوے ملازمین نے غبن میں ملوث ملازمین کے خلاف کریمنل ایکٹویٹی میں ملوث ہونے پر ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ اور تفتیش ریلوے پولیس کے ایماندار افسران کے سپرد کرنے کا مطالبہ کردیا بتایا جاتا ہے کہ ملتان ڈویژن کےایسے مسافر جو کسی بھی وجہ سے ایڈوانس ریزرویشن سمیت ریلوے بکنگ آفس سے ٹکٹ حاصل نہیں کر پاتے اور ٹرین میں سوار ہو جاتے تو ٹرین میں موجود ایس ٹی ای دوران چیکنگ رابطہ ایپ ڈیوائس کے ذریعے ان کی ٹکٹ کی رسید بنا کر مسافر سے کرایہ وصول کرلیتے تھے تاہم ٹکٹ رسیدبنانے کے بعد جب مسافر کا تمام ریکارڈ ایس ٹی ای کے پاس ہوتا تو وہ باآسانی بنائے گئے ٹکٹ کو ریفنڈ کرکے کرایہ اپنی جیب میں رکھ لیتا تھادوسری طرف مسافر اس رسید پر ہی سفر کرتا رہتا جو اس کو دینے کے بعد ریفنڈ کرلی گئی تھی ریلوے ذرائع کے مطابق رابطہ ایپ کے مسافر ٹرینوں میں ٹکٹ بنانے اور ریفنڈ کرنے کا یہ کھیل کافی عرصہ سے جاری و ساری تھا کیونکہ ریلوے میں مالی بدعنوانی کے لئے قائم ویجلینس سیل اور اسٹیشنوں سے آوٹ ہونے والے مسافروں کی ٹکٹس جمع کرنے والے ٹکٹ کلکٹرز کے پاس نہ تو رابطہ ایپ کی ڈیوائس موجود ہے کہ وہ مسافر سے کلکٹ ہونے والی ٹکٹ کے ریفنڈ ہونے یا اصلی ہونے کی تصدیق کرسکےاسی طرح ٹکٹ رسید کی جانچ کا کوئی دیگر ذریعہ بھی موجود نہیں جس کی وجہ سے کامیابی کے ساتھ ٹکٹ ایگزمینرز ٹکٹ جاری اور ریفنڈکرنےکےاس کھیل میں لاکھوں روپے اپنی جیب میں ڈالنے میں مصروف تھے بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ غبن سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر ڈی ایس ملتان کی طرف سے شعبہ کمرشل کے ایک ذمہ دار آفیسر کو اس فراڈ اور لوٹ مار میں ملوث کمرشل سٹاف کو رنگے ہاتھوں قابو کرنے کا خصوصی ٹاسک دیا گیا جس پر ملتان ڈویژن کے مذکورہ آفیسر نے ٹکٹ ریفنڈ کے باوجود مسافروں کے سفر نے اور ریفنڈ ٹکٹوں کی ریٹرن کی عدم موجودگی کے معاملات کو پکڑ لیا مجموعی طور پر ملتان ڈویژن کےایک درجنکے قریب ایس ٹی ایز اس عمل میں ملوث پائے گئے جس میں احسن نامی ٹکٹ ایگزمینر کے پاس سب سے زائد رقم11لاکھ روپے کا فراڈ ثابت ہوا مذکورہ ایس ٹی ای نے لوٹ گئی رقم واپس جمع کروانے کی یقین دہانی کروائی جبکہ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے ملتان نے فراڈ میں ملوث ہونے پر مذکورہ اہلکار کی تنزلی کرتے ہوئے اس سے ٹی سی آر بھی بنا دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں موجود شعبہ آئی ٹی کے ڈائریکٹر دیگر ذمہ دران رابطہ ایپ اور آئی ٹی کے اس فراڈ سے بخوبی آگاہ ہیں اور غالب امکان ہے کہ دیگر ڈویژنوں کراچی،سکھر،لاہور،راولپنڈی پشاور میں بھی اسطرح لاکھوں روپے ریلوے کے خزانہ سے لوٹ لئے گئے ہوں۔جس کی تقسیم حصہ چقدر جثہ کے حساب سے کی گئی ہوگی بتایا جاتا ہے کہ ایک عرصہ سے جاری اس فراڈ میں ایک ایس ٹی ای کے ٹکٹ جاری کرنے اور پھر کچھ دیر بعد ریفنڈ کرنے کی مسلسل رابطہ آئی ٹی ریکارڈ میں اضافہ کے باوجود کسی آئی ٹی آفیسر کی توجہ نہ ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ریلوے ملازمین دیگر سماجی حلقوں نے وفاقی وزیر ریلوے سے مطالبہ کیا ہے کہ ریلوے ملتان ڈویژن میں چلتی ٹرین میں ٹکٹ بنا کر ریفنڈ کرنے کے فراڈ میں ملوث کمرشل سٹاف کے خلاف محکمانہ کاروائی ناکافی ہے ان کے خلاف کریمنل ایکٹویٹی اور ملکی خزانہ میں غبن کی ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جائے۔







