بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) جنوبی پنجاب کے اہم شہر بہاولپور میں غیر منظور شدہ ہاؤسنگ ٹاؤنز اور کچی کٹنگ اسکیموں کو بجلی کے کنکشن جاری کیے جانے کا بڑا اسکینڈل منظرِ عام پر آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنی میپکو کے بعض افسران اور فیلڈ عملے کی مبینہ ملی بھگت سے درجنوں غیر قانونی رہائشی منصوبوں کو قواعد و ضوابط مکمل کیے بغیر ڈیمانڈ نوٹس (DN) جاری کیے گئے۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض سب ڈویژنز میں فی کنکشن مبینہ طور پر 50 ہزار روپے تک وصول کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ غیر متعلقہ فردِ ملکیت یا نامکمل دستاویزات پر ٹاؤنز کے بعد موجودپول نصب پر متعدد میٹر لگائے جا رہے ہیں جس سے بجلی کی سپلائی نئے کنکشن لگا کر شروع کر دی گئی۔ ان ٹاؤنز کو نہ تو میونسپل کارپوریشن بہاولپور سے باقاعدہ منظوری حاصل ہے اور نہ ہی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے این او سی جاری کیا گیا۔ذرائع کے مطابق باقر پور، ڈیرہ عزت قادر بخش چنر موضع حمیاتی اور دیگر ملحقہ علاقوں میں قائم متعدد ہاؤسنگ اسکیموں کے کیسز زیرِ بحث ہیں، جہاں قانونی تقاضے مکمل کیے بغیر بجلی کے کنکشن فراہم کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے نہ صرف ریونیو کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے بلکہ غیر منصوبہ بند لوڈ کے باعث ٹرانسفارمرز اور ڈسٹری بیوشن سسٹم پر بھی شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔قانونی حلقوں کے مطابق اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ اقدام متعدد قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے، جن میں شامل ہیںRegulation of Generation, Transmission and Distribution of Electric Power Act, 1997 (نیپرا ایکٹ) — بجلی کی فراہمی اور لائسنسنگ کے ضوابط کی خلاف ورزی۔Electricity Act, 1910 — غیر مجاز تنصیبات اور حفاظتی اصولوں کی عدم پابندی۔Prevention of Corruption Act — سرکاری افسران کی مبینہ رشوت ستانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں فوجداری کارروائی۔Pakistan Penal Code کی متعلقہ دفعات، بالخصوص دفعہ 409 اور 420۔مزید برآں، مالی بے ضابطگیوں کی صورت میں متعلقہ ادارے بھی تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا سکتا ہے۔بجلی سب ڈویژن کا سربراہ ایس ڈی او (Sub Divisional Officer) ہوتا ہے، جو نئے کنکشنز کی منظوری، ڈیمانڈ نوٹس کے اجرا، اراضی ملکیت اور این او سی کی تصدیق، اور فیلڈ اسٹاف کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔ قواعد کے مطابق کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم کو کنکشن دینے سے قبل متعلقہ بلدیاتی اور ترقیاتی اداروں کی منظوری لازم ہے۔انتظامی ماہرین کے مطابق اگر ایس ڈی او کی منظوری یا علم کے بغیر کنکشن جاری ہوئے تو یہ سنگین غفلت شمار ہوگی، جبکہ ملی بھگت یا مالی مفاد ثابت ہونے کی صورت میں محکمانہ کارروائی، معطلی اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔گرمیوں کے دوران غیر قانونی کنکشنز کے باعث ٹرانسفارمرز پر اضافی بوجھ پڑنے سے متعدد علاقوں میں ٹرانسفارمر جلنے اور اوورلوڈنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی اسکیموں کو بجلی فراہم کرنے کے نتیجے میں باقاعدہ صارفین کو لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شہری و سماجی حلقوں نے وفاقی وزیرِ توانائی، چیئرمین نیپرا اور چیف ایگزیکٹو آفیسر میپکو سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قومی خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔رابطہ کرنے پر متعلقہ افسران نے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق ابتدائی سطح پر بعض کیسز کی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی ہے۔







