جامعات میں مالیاتی بے ضابطگیاں، ریزیڈنٹ آڈیٹرز کو غیرقانونی مراعات، احتساب متاثر

ملتان (سٹاف رپورٹر)پنجاب بھر کی سرکاری جامعات میں مالیاتی نگرانی کے نظام سے متعلق سامنے آنے والے چونکا دینے والے انکشافات نے ایک اور سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے تعینات کردہ ریزیڈنٹ آڈیٹرز کو جامعات کی انتظامیہ کی طرف سے دی جانے والی مراعات نہ تو کسی مجاز اتھارٹی سے منظور شدہ ہوتی ہیں اور نہ ہی انہیں سنڈیکیٹ یا کسی قانونی فورم کی باقاعدہ منظوری حاصل ہوتی ہے۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر بعض وائس چانسلرز اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے انہیں گاڑی، سرکاری فیول، ٹی اے/ڈی اے، ایوننگ پروگرامز میں حصہ، سیلف سپورٹ اسکیموں سے مالی فوائد اور دیگر غیر رسمی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ اور پھر خود بھی اس سے کئی گنا فائدے حاصل کر لیتے ہیں۔ ایک یونیورسٹی کے ریزیڈنٹ آڈیٹر نے روزنامہ قوم کو بتایا کہ کہ وہ ان سب مراعات کے حقدار ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کی منظوری دکھا دیں تو وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ ایک بڑی یونیورسٹی کے ایک انتظامی افسر کے مطابق ان سہولیات کی فراہمی کا مقصد محض “ادارہ جاتی ہم آہنگی” نہیں بلکہ ایک ایسا غیر تحریری دباؤ قائم کرنا ہے جس کے تحت ریزیڈنٹ آڈیٹر کسی بھی حساس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ایک سینئر انتظامی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “یہ سب کچھ فائلوں میں کہیں درج نہیں ہوتا۔ اگر آڈیٹر کسی معاملے پر سختی دکھانے لگے تو اسے باور کرا دیا جاتا ہے کہ تمام مراعات انتظامیہ کی صوابدید سے دی جا رہی ہیں اور کسی بھی وقت واپس لی جا سکتی ہیں۔” ذرائع کے مطابق وائس چانسلرز اور بعض افسران کے پاس ان غیر منظور شدہ مراعات کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے، جسے بوقتِ ضرورت بطور “دباؤ کے آلے” استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے آڈٹ کی غیر جانبداری عملاً متاثر ہوتی ہے، کیونکہ جب نگران ہی مراعات کے حصے دار ہوں تو احتساب کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق یہ صورتحال محض انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کی واضح مثال ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر کسی سرکاری افسر کو اس ادارے سے غیر مجاز فوائد حاصل ہوں جس کا وہ آڈٹ کر رہا ہو تو یہ نہ صرف سروس رولز کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے قانونی مضمرات بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں مراعات دینے اور لینے والے دونوں فریق احتساب کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اساتذہ نمائندگان کا مؤقف ہے کہ مالیاتی بے ضابطگیوں اور مفاہمتی کلچر کا براہِ راست اثر تعلیمی معیار پر پڑتا ہے۔ جب ترقیاتی منصوبوں، کنٹریکٹ تقرریوں، ریسرچ فنڈز اور خریداری کے معاملات پر کڑی جانچ نہ ہو تو وسائل کا درست استعمال متاثر ہوتا ہے اور اس کا خمیازہ طلبہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔ “اگر احتساب کا عمل ہی دباؤ اور مفاہمت کے تابع ہو جائے تو شفاف گورننس کا تصور بے معنی ہو جاتا ہے،” سول سوسائٹی اور تعلیمی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب کی جامعات میں ریزیڈنٹ آڈیٹرز کو دی جانے والی تمام مراعات کا ریکارڈ منظرِ عام پر لایا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ آیا ان کی باقاعدہ منظوری کسی مجاز فورم سینڈیکیٹ ، ان کے فنانس ڈیپارٹمنٹ یا آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے لی گئی تھی یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ معاملہ صرف چند جامعات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے صوبے میں مالیاتی نگرانی کے نظام پر عوامی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام اس مبینہ مفاہمتی کلچر کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہیں یا پھر جامعات میں آڈٹ اور انتظامیہ کے درمیان جاری یہ “خاموش سمجھوتا” بدستور قائم رہتا ہے۔ پنجاب کی اعلیٰ تعلیم کے نظام میں شفافیت اور احتساب کا مستقبل اسی فیصلے سے وابستہ دکھائی دیتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں