ملتان (سپیشل رپورٹر) ملتان میں ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم کے نام پر عوام سے کھلے عام کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ بغیر این او سی (NOC) ڈویلپمنٹ جاری ہے، کروڑوں روپے کی فائلیں روزانہ کی بنیاد پر فروخت کی جا رہی ہیں، مگر متعلقہ ادارے یا تو خاموش ہیں یا “سمجھوتے” میں مصروف۔ذرائع کے مطابق چند روز قبل انتظامیہ نے ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پروجیکٹ کو سیل کیا تھا، تاہم اس کارروائی کی “سنگینی” کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسی رات ہاؤسنگ سکیم میں میوزیکل نائٹ کا اہتمام کیا گیا، جس میں منتظمین نے بھرپور جشن منایا۔ اگلے ہی روز، مبینہ طور پر اداروں سے مک مکا کے بعد سکیم کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔شہری ذرائع کے مطابق ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر تشہیر مہم چلا رکھی ہے۔ پرکشش ویڈیوز، خوشنما ماڈلز، اور سبز باغ دکھانے والے اشتہارات کے ذریعے سادہ لوح شہریوں کو پھنسایا جا رہا ہے۔ درحقیقت، منصوبہ قانونی منظوری سے محروم ہے اور موقع پر بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔متعلقہ اداروں کی چشم پوشی نے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جب سیل کرنے کے باوجود سکیم اپنی تقریب موسیقی منعقد کرے اور اگلے دن دوبارہ کام شروع کر دے، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارروائیاں محض رسمی نوعیت کی ہیں۔واضح رہے کہ ملتان میں گلبرگ ایگزیکٹو ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بھی عوام سے تقریباً 15 ارب روپے کا فراڈ کیا گیا تھا۔ آج تک لٹنے والے شہری اپنی رقوم کے حصول کے لیے دربدر ہیں، جبکہ ملوث عناصر اب تک آزاد پھر رہے ہیں۔شہریوں نے حکومتِ پنجاب، اینٹی کرپشن، اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (MDA) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم سمیت تمام غیر قانونی منصوبوں کے خلاف فی الفور شفاف کارروائی کریں، تاکہ عوام کی جمع پونجی مزید لٹنے سے بچ سکے۔اس حوالے سے عوام نے مطالبہ کیا ہے ایسے غیر قانونی اور جعلی ہاؤسنگ منصوبے جہاں “سیل” کے بعد “سیلیبریشن” ہو، وہاں محض جرمانے نہیں بلکہ سخت قانونی کارروائی اور گرفتاریوں کی ضرورت ہے، ورنہ یہ مک مکا کلچر عوامی اعتماد کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔







