ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ آف پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 2 مئی 2017 کو جاری کردہ ایک اہم نوٹیفکیشن میں واضح کر دیا ہے کہ صوبے کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو دی جانے والی مراعات اور تنخواہ کے پیکیج کا دائرہ کار کیا ہوگا، اور اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی اضافی سہولت یا مالی فائدہ کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔ نوٹیفکیشن نمبر SO(Univ.)5-3/2009-P کے مطابق صوبائی حکومت نے Higher Education Commission کے 15 اکتوبر 2015 کے نوٹیفکیشن (Tenure Track Pay Package) کو فوری طور پر نافذ کرنے کی منظوری دی۔ اس کے تحت پنجاب کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو پروفیسرز کے نظرثانی شدہ ٹینیور ٹریک پے پیکیج کی زیادہ سے زیادہ حد تک تنخواہ، اس کے علاوہ بنیادی تنخواہ کا 20 فیصد بطور وائس چانسلر الاؤنس ادا کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ اور میڈیکل سہولت صرف BS-22 کے استحقاق کے مطابق ہوگی، جبکہ یہ پیکیج “All Inclusive” تصور ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کی مجاز اتھارٹی صرف Government of the Punjab اور چانسلر (گورنر پنجاب) ہیں، اس لیے وہی مراعات قانونی طور پر قابلِ قبول ہوں گی جو باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے منظور کی گئی ہوں۔ اس کے علاوہ کسی بھی یونیورسٹی کی سطح پر دی جانے والی اضافی گاڑیاں، ایندھن، خصوصی الاؤنسز، یا دیگر مالی فوائد قانون اور قواعد کی روشنی میں غیر قانونی تصور کیے جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ “ All Inclusive” پیکیج کی شق اس بات کو مزید واضح کرتی ہے کہ وائس چانسلرز کو بنیادی طور پر وہی تنخواہ اور مراعات ملیں گی جو مذکورہ نوٹیفکیشن میں درج ہیں، اور اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی اضافی ادائیگی یا سہولت کے لیے گورنمنٹ آف پنجاب اور گورنر پنجاب سے علیحدہ منظوری درکار ہوگی، جبکہ اس سلسلے میں سینڈیکیٹ اور سینیٹ سے منظوری کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہو گی کیونکہ وائس چانسلرز کی تعیناتی کی اتھارٹی حکومت پنجاب اور گورنر پنجاب ہیں۔ یہاں توجہ طلب امر یہ ہے کہ وائس چانسلرز کی مراعات کے حوالے سے ان کی متعلقہ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کا کسی بھی قسم کا اضافی اقدام قواعد سے انحراف سمجھا جائے گا اور اس پر یونیورسٹی انتظامیہ کے متعلقہ افراد بشمول وائس چانسلرز، رجسٹرارز، خزانچی حضرات جوابدہ ہوں گے۔ یہ نوٹیفکیشن سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حکم سے جاری کیا گیا اور اس کی نقول گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کو ارسال کی گئیں تاکہ اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔







