ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان شہر کے مصروف ترین علاقے لاری اڈا بکر منڈی کے قریب وہیکل انسپکشن سنٹر کے عین سامنے سوئی گیس روڈ پر ایک مبینہ غیر قانونی تین منزلہ پلازہ تیزی سے تعمیر کیا جا رہا ہےجس نے شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس متنازعہ تعمیر میں ایم ڈی اے، میونسپل کارپوریشن اور بعض اعلیٰ افسران کی مبینہ ملی بھگت شامل ہےجبکہ قانون اور حفاظتی ضوابط کو کھلم کھلا نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ پلازے کا نہ تو کسی مجاز اتھارٹی سے باقاعدہ نقشہ منظور کروایا گیا اور نہ ہی سوئی گیس حکام سے این او سی حاصل کی گئی۔ یاد رہے کہ سوئی گیس روڈ کے نیچے گزرنے والی مین گیس لائنوں کے باعث اس علاقے میں کسی بھی قسم کی تعمیرات سختی سے ممنوع قرار دی جاتی رہی ہیں، تاکہ کسی بڑے سانحے سے بچا جا سکے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پلازہ مالک نے بااثر حلقوں کی پشت پناہی میں تعمیراتی کام شروع کروایا، جبکہ شہریوں کی جانب سے متعدد بار شکایات کے باوجود متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔ بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے تحریری اور زبانی طور پر ایم ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کو اطلاع دی، حتیٰ کہ پیرا فورس کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا گیا، مگر کوئی عملی کارروائی نہ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق گیس لائنوں کے اوپر بھاری تعمیرات نہ صرف دباؤ میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ زمین کے اندر موجود پائپ لائنوں کی ساخت کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اگر کسی بھی مقام پر لیکیج یا دھماکہ ہو جائے تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے علاقے میں جہاں ٹریفک اور آبادی کا دباؤ پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کی جائے اور اگر واقعی نقشہ اور این او سی کے بغیر تعمیرات ہو رہی ہیں تو عمارت کو فوری طور پر سیل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذمہ دار افسران اور مالک کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔ عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر ملتان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، غیر قانونی تعمیرات رکوا کر شفاف تحقیقات کا حکم دیں اور اگر ضابطہ خلافی ثابت ہو تو بلا امتیاز احتساب کو یقینی بنائیں۔ اگر متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی نہ کی تو شہریوں کے مطابق یہ مبینہ غفلت کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔







