ویمن یونیورسٹی بہاولپور: چھٹا سلیکشن بورڈ غیرقانونی، رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ کا پروفیسر تقرر متنازع

گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کے چھٹے سلیکشن بورڈ کے غیر قانونی قرار پانے کا عکس

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں چھٹے سلیکشن بورڈ کے غیر قانونی انعقاد کا معاملہ ایک نئے اور سنگین موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی متنازع سلیکشن بورڈ میں موجودہ رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کی بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر تقرری کے لیے ایکسپرٹ کی منظوری بھی دی گئی تھی، جو اب قانونی طور پر مشکوک قرار دی جا رہی ہے۔ دستاویزی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھٹا سلیکشن بورڈ مقررہ کورم کے بغیر منعقد کیا گیا تھا کیونکہ لازمی رکن کی عدم موجودگی کے باوجود اجلاس جاری رکھا گیا۔ بعد ازاں سنڈیکیٹ کی سطح پر اس بورڈ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ (Scrap) کر دیا گیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق جب کوئی سلیکشن بورڈ اپنی حیثیت کھو دے تو اس کے ذریعے منظور کی گئی تمام سفارشات، بشمول ماہرین کی نامزدگی اور امیدواروں کی منظوری از خود کالعدم تصور ہوتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صائمہ انجم کی بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر تقرری کے لیے جن ماہرین کی منظوری اسی غیر قانونی بورڈ سے لی گئی، وہ بنیاد ہی متنازع ہو چکی ہے۔ اس صورتحال میں ان کی تقرری کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ تعلیمی و قانونی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر بنیادی سلیکشن بورڈ ہی غیر قانونی قرار پایا تو اس کے نتیجے میں ہونے والی ہر منظوری بھی قانونی جواز سے محروم ہو جاتی ہے۔ یونیورسٹی کے اندر اس معاملے پر شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اساتذہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامی عہدے پر فائز شخصیت کی اپنی تقرری ہی متنازع بنیادوں پر ہو تو ادارہ جاتی شفافیت اور میرٹ کا تصور بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی صورتحال میں مستقبل کے تمام انتظامی و تقرری فیصلوں کی ساکھ بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔ شہری اور تعلیمی حلقوں نے حکومت پنجاب اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف چھٹے سلیکشن بورڈ بلکہ اس کی بنیاد پر ہونے والی تمام تقرریوں، خصوصاً رجسٹرار کی بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر تقرری، کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ قانون کی بالادستی اور میرٹ کی بحالی یقینی بنائی جا سکے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر صائمہ انجم نے 2013 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد، بغیر کسی باقاعدہ اشتہار کے کنٹریکٹ بنیادوں پر خواتین یونیورسٹی بہاولپور میں ملازمت حاصل کی، جو یونیورسٹی کے اسٹیٹیوٹس کے خلاف تھی۔ ابتدائی تقرری لیٹر نمبر 502/Estt مورخہ 05.08.2015 کے تحت جاری ہوا، جس نے دیگر ملازمین کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی۔ ذرائع کے مطابق، پہلے کی طرح دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی ملازمت کے بعد ڈاکٹر صائمہ انجم نے اپنی وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم سے کہہ کر رجسٹرار اور پروفیسر آف کیمسٹری کا اشتہار شائع کروایا۔ حیرت انگیز طور پر، انہوں نے عارضی رجسٹرار کی کرسی پر بیٹھ کر خود ہی اپلائی کیا، خود ہی درخواست وصول کی اور اپنی درخواست کو منظور کروایا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں