زکریا یونیورسٹی میں تحقیقی فنڈز کی متنازع تقسیم، ریسرچرز اور اساتذہ میں شدید بےچینی

زکریا یونیورسٹی کے ریسرچ فنڈز کی تقسیم کاپروپوزل

ملتان ( سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں قومی و بین الاقوامی تحقیقی منصوبوں کے اوورہیڈ/ان ڈائریکٹ فنڈز کی مجوزہ تقسیم نے اساتذہ اور تحقیق کاروں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی (F&PC) کےسامنے پیش کی گئی تجویز میں انتظامی دفاتر کے لیے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جسے کئی اساتذہ ’’تحقیق دشمن فارمولا‘‘قرار دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اوورہیڈ فنڈز دراصل ان اخراجات کے لیے ہوتے ہیں جو براہِ راست منصوبے پر خرچ نہیں ہوتے بلکہ انتظامی، مالیاتی، ریگولیٹری اور انفراسٹرکچر سپورٹ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس شق کو بنیاد بنا کر ایک ایسا ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے جس میں اصل محققین کے بجائے انتظامی دفاتر سب سے بڑے مستفید ہوں گے۔ دستاویز کے مطابقسنٹرل یونیورسٹی سپورٹ : 20فیصد، آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC): 10فیصد، بزنس انکیوبیشن سینٹر (BIC): 10فیصد، وائس چانسلر آفس: 35فیصد، رجسٹرار آفس: 10فیصد، خزانچی آفس: 10فیصد، ریزیڈنٹ آڈیٹر آفس: 5فیصدہیں۔ سب سے زیادہ 35 فیصد حصہ وائس چانسلر آفس کے لیے مختص کیے جانے پر اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا تحقیقی منصوبوں کی محنت اور علمی قیادت کا صلہ انتظامی مراکز کو منتقل کیا جا رہا ہے؟ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ ’’تحقیق کریں یا دفتر پالیں؟‘‘ کئی سینئر پروفیسرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قومی و بین الاقوامی گرانٹس حاصل کرنا پہلے ہی ایک مشکل اور مسابقتی عمل ہے۔ اگر اوورہیڈ فنڈز کا بڑا حصہ اعلیٰ انتظامی دفاتر کو دے دیا گیا تو تحقیقی لیبارٹریوں کی بہتری متاثر ہوگی۔ نوجوان فیکلٹی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ بین الاقوامی تعاون میں کمی آسکتی ہے اور محققین اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد کا بحران بڑھے گا۔ ایک استاد کا کہنا تھا، اگر محققین ہی وسائل سے محروم ہو جائیں تو یونیورسٹی کی ریسرچ رینکنگ اور عالمی ساکھ پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ناقدین کا مؤقف ہے کہ تجویز میں واضح نہیں کیا گیا کہ وائس چانسلر آفس کو ملنے والے 35 فیصد فنڈز کن مخصوص مدات میں خرچ ہوں گے، اور کیا اس کی نگرانی کے لیے کوئی خودمختار میکنزم موجود ہوگا۔ مزید برآں کیا فیکلٹی نمائندگی کے بغیر اس تقسیم کی منظوری دی جا رہی ہے؟ ماہرین کے مطابق اگر شفاف اور قابلِ احتساب فریم ورک نہ بنایا گیا تو مالی بدانتظامی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ تحقیق کے نام پر انتظامی اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ یونیورسٹی کے اندر اختیارات کا غیر متوازن ارتکاز پیدا ہوگا۔ اب تمام نظریں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس مجوزہ فارمولے کو جوں کا توں منظور کرتی ہے یا اس میں ترامیم کر کے تحقیقی برادری کے تحفظات کو دور کرتی ہے۔ اساتذہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اوورہیڈ فنڈز کی تقسیم میں توازن اور شفافیت نہ لائی گئی تو یہ معاملہ اکیڈمک کونسل اور سینڈیکیٹ تک بھی جا سکتا ہے، جو یونیورسٹی کی اندرونی سیاست اور انتظامی استحکام کو مزید ہلا کر رکھ دے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا تحقیقی فنڈز کا مقصد علمی ترقی ہے یا انتظامی دفاتر کی مالی مضبوطی؟ آنے والے دنوں میں اس تجویز کی منظوری یا ردّ عمل یونیورسٹی کی سمت کا تعین کرے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں