بہاولپور(انویسٹیگیشن سیل)بلڈنگ ڈویژن ون بہاولپورمیں مبینہ میگا کرپشن کا سلسلہ ایکسین کی سرپرستی میں جاری ہے جہاں سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کی ادائیگیوں، ناقص تعمیرات اور قواعد و ضوابط کی کھلی پامالی جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایکسین بلڈنگ ڈویژن ون نثار کی مبینہ طور پر سیاسی چھتری میں تعیناتی کے بعد باؤنڈری وال سمیت متعدد منصوبوں میں ادائیگیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے محکمانہ ایس او پیز اور شفافیت پر سوالیہ نشان ہے ۔ ایکسین نثار جو ماضی میں بھی اینٹی کرپشن کی جانب سے کرپشن کے الزامات کی زد میں رہ چکے ہیں، انہیں بہاولپور کی ایک بااثر سیاسی شخصیت کی سفارش پر دوبارہ بلڈنگ ڈویژن ون بہاولپور میں تعینات کیا گیا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کے بعد سرکاری فنڈز کو مبینہ طور پر ذاتی جاگیر سمجھ کر استعمال کیا جا رہا ہے اور قومی خزانے سے کھلواڑ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔کام مکمل ہونے سے پہلے مبینہ طور پر اپنا حصہ وصول کرکے رقوم کی بارش جاری لاٹاں سنگھار بوریوال کمپنی کی باؤنڈری وال کے منصوبے میں تقریباً ساڑھے سات کروڑ روپے ایڈوانس ادا کیے گئے، مگر کام مکمل ہونے سے پہلے ہی مزید تین کروڑ روپے جاری کر دیے گئے۔ حیران کن طور پر منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا جبکہ ادائیگیوں کا سلسلہ رکنے کے بجائے مزید تیز ہو گیا۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سرکاری خزانہ کسی مخصوص افسر اور ٹھیکیدار کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور کیا بہاولپور کے ترقیاتی منصوبے کمیشن مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے شہری حلقوں کے مطابق یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ محکمے میں قانون کے مطابق نہیں بلکہ “مرضی” کے مطابق کام چلایا جا رہا ہے۔لیبارٹری ٹیسٹ فیل، پھر بھی 10 کروڑ روپے کی ادائیگی سمجھ سے بالاتر ہے بوریوال کمپنی (گروپ ٹو) کے کام کے لیبارٹری ٹیسٹ مبینہ طور پر فیل قرار پائے، اس کے باوجود تقریباً 10 کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی گئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ناقص ریت، کم مقدار میں سیمنٹ اور غیر معیاری میٹریل کے استعمال کی شکایات موجود ہیں مگر اس کے باوجود نہ ادائیگیاں روکی گئیں اور نہ ہی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ منصوبہ تقریباً 2800 ملین روپے کی مجموعی سکیم کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ناقص تعمیرات اور غیر معیاری میٹریل کے باعث یہ سکیم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو آنے والے وقت میں یہ منصوبہ قومی خزانے کے لیے ایک اور بڑا بوجھ بن جائے گا۔ ایکسین نثار ماضی میں بھی مبینہ طور پر اینٹی کرپشن کیسز کا سامنا کر چکے ہیں اور انکوائری زیر سماعت بھی بتائی جاتی ہیں، مگر موثر کارروائی نہ ہونے کے باعث وہ دوبارہ طاقتور عہدے پر واپس آ گئے۔ سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے اینٹی کرپشن سمیت متعلقہ ادارے خاموش ہیں شہری و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری انکوائری کرائی جائے، ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے، لیبارٹری رپورٹس کی آزادانہ جانچ کرائی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بہاولپور پہلے ہی پسماندگی کا شکار ہے، ایسے میں ترقیاتی منصوبوں کو مبینہ کرپشن کی نذر کرنا عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہے اس سلسلہ میں جب ایکسین بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ ون نثار سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں میں قوانین کے تحت تمام فنڈز جاری کر رہا ہوں۔منصوبے میں کسی قسم کا ناقص میٹریل استعمال نہیں کیا جارہا ہے ۔







