ملتان (شیخ نعیم سے)پنجاب کو ناجائز اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے شروع کی گئی خصوصی مہم تاحال عملی پیش رفت سے محروم ہے اور بیوروکریٹک پیچیدگیوں کے باعث کھٹائی کا شکار ہو چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں غیر قانونی اسلحہ کے مکمل خاتمے کے لیے محکمہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کو خصوصی ٹاسک سونپا تھا، تاہم یہ اہم منصوبہ محکمہ قانون کے ڈرافٹ پر آ کر رک گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت صوبہ بھر میں غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے کے لیے خصوصی سینٹرز قائم کیے جانے تھے تاکہ شہری رضاکارانہ طور پر ناجائز اسلحہ جمع کرا سکیں، مگر تاحال نہ تو ایسے مراکز قائم ہو سکے اور نہ ہی اس حوالے سے اسمبلی سے باقاعدہ منظوری لی جا سکی۔اسی منصوبے کے تحت اسلحہ لائسنسوں کی جامع سکروٹنی بھی کی جانی تھی۔ حکام کے مطابق سکروٹنی کے بعد لاکھوں مشکوک یا غیر فعال اسلحہ لائسنس منسوخ کیے جانے کا امکان تھا، تاہم یہ عمل بھی مکمل نہ ہو سکا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی سطح پر ریکارڈ مرتب کرنے کے بعد سی سی ڈی کی سرگرمیاں سست پڑ گئیں اور عملی کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔قانونی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی اسلحہ صوبے میں جرائم کی بڑی وجہ ہے۔ ڈکیتی، راہزنی، ذاتی دشمنیوں اور ہوائی فائرنگ کے بیشتر واقعات میں ناجائز اسلحہ استعمال ہونے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے میں اس مہم کا التوا کا شکار ہونا تشویش کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق سرکاری سطح پر واضح اور مربوط اقدامات نہ ہونے، قانونی مسودے کی منظوری میں تاخیر اور بین المحکماتی رابطے کے فقدان کے باعث یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے -کہ اگر اسلحہ کے غیر قانونی نیٹ ورکس اور غیر شفاف لائسنسنگ سسٹم کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو جرائم کی روک تھام کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب خود اس منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیں، محکمہ قانون اور اسمبلی سے فوری منظوری حاصل کی جائے، اسلحہ جمع کرانے کے مراکز قائم کیے جائیں اور لائسنسوں کی سکروٹنی کا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ صوبے کو واقعی ناجائز اسلحہ سے پاک کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔







