ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ آف پنجاب اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے ویمن یونیورسٹی ملتان میں نئی وائس چانسلر کی تعیناتی میں غیر معمولی تاخیر نے ادارے کو شدید انتظامی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ تین ماہ قبل انٹرویوز مکمل ہونے کے باوجود تاحال نئی تقرری عمل میں نہ آنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی تعیناتی اور سروس ریکارڈ سے متعلق سنگین نوعیت کے شواہد اور ثبوت سامنے آئے ہیں۔ ان پر مبینہ طور پر جعلی تجربے کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے اور بغیر باقاعدہ اشتہار تقرری پانے کا ثبوت سامنے آ گیا ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے تاریخِ پیدائش میں تین مختلف تبدیلیاں کروائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض دستاویزات کے مطابق ان کی تاریخِ پیدائش 1964 درج ہے، جس کے تحت وہ 2024 میں ریٹائر ہو چکی ہیں، تاہم وہ تاحال عہدے پر غیر قانونی اور غیر اخلاقی فائز ہیں۔ ان دعوؤں کے حوالے سے تمام تر ثبوت روزنامہ قوم کے پاس موجود ہیں۔ اور یہ نہ صرف قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ سرکاری نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ معاملہ یہیں تک محدود نہیں۔ ان پر گرینڈ گالا، سیلاب فنڈ اور سیرت کانفرنس کے نام پر اکٹھی کی گئی رقوم کو ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کروانے کے شواہد اور رسیدیں بھی روزنامہ قوم کے پاس موجود ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر کسی سرکاری فنڈ کو ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا تو یہ مالی بے ضابطگی کے زمرے میں آ سکتا ہے، جس کی فوری اور شفاف انکوائری ناگزیر ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس غیر یقینی صورتحال کے باعث یونیورسٹی میں انتظامی اور تعلیمی معاملات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اساتذہ اور طالبات میں بے چینی پائی جا رہی ہے جبکہ پالیسی سازی اور ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ بھری میٹنگز میں اس بات کا ذکر کرتی ہیں کہ یہ تمام رسیدیں روزنامہ قوم تک ہمارے انتظامی افسران اور خواتین اساتذہ نے پہنچائی ہیں۔ جبکہ وہ اس کرپشن کو کرپشن ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔اسی طرح وہ بھری میٹنگز میں بھی اپنے جعلی تجربے اور جعلی تاریخ پیدائش والے معاملے پر بھی کچھ پروفیسرز اور کچھ انتظامی افسران پر الزام ڈالتی ہیں کہ انہوں نے ان کے دھوکہ دہی پر مبنی پرسنل ڈاکومینٹس روزنامہ قوم تک پہنچائے۔ انہی الزامات کی بنیاد پر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے ذاتی نا کا مسئلہ بنا کر عارضی وائس چانسلر کے طور پر بھی بڑا مالیاتی فیصلہ کرتے ہوئے 80 سے زائد ملازمین اور خواتین پروفیسرز کی تنخواہوں کے انکریمنٹس کاٹ دیے۔ اور خواتین یونیورسٹی ملتان کے ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر گورنمنٹ آف پنجاب اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے غیر قانونی کاموں اور کرپشن اور ان کے اوپر کیے گئے مظالم پر کوئی ایکشن نہ لیا تو خواتین ٹیچرز اور انتظامی افسران چوک کچہری پر دھرنہ دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ یونیورسٹی کی اساتذہ اور انتظامی افسران نے وزیر اعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر نئی وائس چانسلر کی تقرری کو یقینی بنائیں اور موجودہ غیر قانونی پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے خلاف موجود شواہد کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا حکم دیں، تاکہ تعلیمی اداروں میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران نہ صرف ایک ادارے بلکہ صوبے کی اعلیٰ تعلیم کے نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔







