ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پیش آنے والا یہ واقعہ محض دو افراد کے درمیان جھگڑا نہیں بلکہ ایک ایسے ادارے کے اندرونی بحران کی عکاسی کرتا ہے جو
علمی وقار، قانونی بالادستی اور اخلاقی معیار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ زیرِ بحث دونوں ایف آئی آرز ایک دوسرے کے خلاف بیانات پر مشتمل ہیں، جن میں ایک جانب ڈپٹی رجسٹرار لیگل سیل محی الدین جبکہ دوسری جانب شعبۂ جنگلات کے استاد ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ شامل ہیں۔ یہ واقعہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے ایڈمن بلاک میں پیش آیا، جہاں ایک زیرِ التواء محکمانہ انکوائری کے تناظر میں دونوں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور مبینہ ہاتھا پائی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ محی الدین کے مطابق ڈاکٹر احسان قادر نے ہراسمنٹ کیس میں مداخلت کی کوشش کی، سرکاری فائلیں پھاڑنے کی کوشش کی اور ان پر حملہ آور ہوئے۔ اس ایف آئی آر میں سرکاری کام میں مداخلت (تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 186 اور 353) کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بیانیے کے مطابق ڈاکٹر احسان غصے میں آئے اور کارِ سرکار میں رکاوٹ بنے۔ ڈاکٹر احسان قادر کے مطابق انہیں دفتر میں بلا کر گالیاں دی گئیں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا، کپڑے پھاڑے گئے اور جسمانی چوٹیں آئیں جن کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی موجود ہے۔ ان کی درخواست پر کراس ورشن درج کیا گیا جس میں جسمانی نقصان سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اگر واقعہ سرکاری دفتر میں پیش آیا تو سی سی ٹی وی فوٹیج کیا کہتی ہے؟ کیا دونوں فریقین کے میڈیکل شواہد آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ہیں؟ کیا ہراسمنٹ کیس کے پس منظر نے معاملے کو ذاتی انتقام کی شکل دی؟ کیا انتظامیہ نے فوری طور پر غیر جانبدار انکوائری کمیٹی تشکیل دی؟ یہ سوالات نہ صرف مقدمے کے عدالتی فیصلے بلکہ ادارے کی ساکھ کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب اساتذہ اور انتظامی افسران ایک دوسرے پر حملے کے مقدمات درج کروائیں تو طلبہ میں ادارے کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔ یونیورسٹی علم و تحقیق کا مرکز ہوتی ہےنہ کہ قانونی محاذ آرائی کا میدان۔ طلبہ جب اپنے اساتذہ اور افسران کو پولیس اور عدالتوں میں دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں قانون، نظم و ضبط اور اخلاقیات کا تصور کمزور پڑتا ہے۔ ایسے واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ داخلی تنازعات کو حل کرنے کے لیے موثر نظام موجود نہیں یا اس پر اعتماد نہیں کیا جا رہا۔ اگر واقعی ہراسمنٹ کا مقدمہ زیر سماعت ہے تو اس کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی ایسے حساس معاملات کی سنجیدگی کو بھی متاثر کر سکتی ہےجو پورے معاشرے کے لیے تشویشناک ہے۔ یہ معاملہ محض ایک فوجداری مقدمہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی نظم و ضبط، شفافیت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کا امتحان ہے۔ ضروری ہے کہ غیر جانبدار عدالتی و انتظامی انکوائری ہو۔ سی سی ٹی وی اور میڈیکل شواہد کا فرانزک تجزیہ کیا جائے۔ متعلقہ فریقین کو عارضی طور پر انتظامی ذمہ داریوں سے الگ کر کے شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ طلبہ اور اساتذہ کے اعتماد کی بحالی کے لیے واضح پالیسی اقدامات کیے جائیں۔ اگر تعلیمی ادارے خود قانون و اخلاق کی پاسداری نہ کریں تو معاشرے میں قانون کی بالادستی کا تصور کمزور ہو جاتا ہے۔ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اداروں کی اصل طاقت عمارتوں سے نہیں بلکہ ان کے کردار اور شفافیت سے ہوتی ہے۔
ڈپٹی رجسٹرارلیگل کی ڈاکٹربھابھہ کیخلاف تھانے درخواست
ملتان(پ ر)ڈپٹی رجسٹرارلیگل زکریایونیورسٹی نے پروفیسر ڈاکٹر احسان قادربھابھہ کیخلاف تھانے درخواست دیدی۔۔محی الدین کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کےمطابق جناب عالی۔ آج مور خہ 11.02.2026 کو زیر و ستخطی اپنے دفتر میں سرکاری کام کے فرائض سر انجام دے رہا تھا کہ تقریباً 11:00 بجے دن پر وفیسر ڈاکٹر احسان قادر میرے دفتر میں تشریف لائے۔ اس وقت حافظ ساجد یعقوب ایڈ من آفیسر میرے پاس موجود تھا اور اس دوران مسٹر ثقلین بھی میرے کمرے میں آئے اور سلام کر کے چلے گئے۔ بعد ازاں حافظ ساجد یعقوب بھی چلے گئے اور زیر دستخطی اور پروفیسر ڈاکٹر احسان قادر اکیلے رہ گئے۔ ڈاکٹر احسان نے گفتگو شروع کی اور کہا کہ مجھے ہراسمنٹ کے کیس سے بری کروائیں میرا کوئی تصور نہیں ہے۔ میں نے اس کو کہا کہ آپ کا کیس ٹرائل کورٹ میں ہے اور دوسرا جو ہائی کورٹ کا حکم آیا ہے۔ اس کی منظوری کی فائل افسران بالا کے پاس زیرغور ہے۔ جس پر ڈاکٹر احسان قادر غصے میں آگئے اور کہا کہ آپ ہائی کورٹ میں میرے خلاف مور خہ 14.01.2026 کو رجسٹرار کے ساتھ کیوں پیش ہوئے اور شکایت کنندہ ( ڈاکٹر شازیہ افضل ) آپ کے پاس کیوں آتی ہے جس پر میں نے ان کو بتایا کہ یہ لیگل آفس ہے جہاں پر مد عی، ملزم، گو ا ہ وغیرہ سب آتے ہیں۔ آپ بھی تو آئے روز میرے پاس آتے ہیں آپ کو پورا پو را پروٹوکول دیا جاتا ہے جس پر ڈاکٹر احسان قادر نے کہا کہ مجھے میرے کیس کی فائل دکھائیں ۔میں نے کہا فائل میرے پاس نہیں ہے جس پر وہ شدید غصے میں آگئے۔ میز پر پڑی ہوئی فائلوں کو ادھرادھر پھینکنا شروع کر دیا میں نے ان کو منع کیا کہ یہ سرکاری فائلیں ہیں کل صبح مورخہ 12.02.2026 کو وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد میں یو نیور سٹی کے کیس سے متعلقہ ہیں۔ ان کو خراب نہ کریں۔ اس نے میری کوئی بات بھی نہ سنی اور کہا کہ میرے پاس cctv فو ٹیج ہے کہ شکایت کنندہ (ڈاکٹر شازیہ افضل) آپ کے دفتر میں تین تین گھنٹےبیٹھی رہتی ہے جس پر میں نے ان کو کہا کہ آپ cctv فو ٹیج دکھادیں۔ جس پر وہ سیخ پا ہو گئے اور مجھ پر حملہ کر دیا اور مجھے زخمی کیا، گالیاں دیتے ہوئے دفتر سے باہر نکلے ، شور و غل سن کر ملازمین باہر نکلے۔ میں نے ان کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ وہاں سے بھاگ گیا میں نے فوری طور پر افسران بالا کو سارا و قوعہ بتایا۔ ڈاکٹر احسان قادر نے کار سرکار میں مداخلت کی۔ سرکاری فائلز اٹھائیں اور پھاڑنے کی کوشش کی جو کہ میں نے ناکام بنائی۔ مجھ پر حملہ کر کے زخمی کیا۔ لہٰذامہر بانی فرما کر اس کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کرنے، سرکاری ریکارڈ کو پھاڑنے کی کوشش کرنے اور مجھے پر حملہ کر کے زخمی کرنے کے زمرے میں اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ زخمی ہونے پر دی گئی ابتدائی طبی امداد جاری کردہ میڈیکل آفیسر یو نیورسٹی ہذالف ہے۔
ڈاکٹربھابھہ کی بھی درخواست، ڈپٹی رجسٹرارلیگل کیخلاف مقدمہ
ملتان(پ ر)جامعہ زکریاکے پروفیسرڈاکٹراحسان قادربھابھہ نے بھی ڈپٹی رجسٹرارلیگل کیخلاف کراس ورشن کی درخواست دیدی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کی جانب سے کراس ورشن درخواست کے مطابق وقت 05:30 بجےشام درج ہے۔ اس وقت مذکورہ خانہ نمبر 2 نے ایک تحریری درخواست معہ میڈیکل نمبر 26/ 269 رپٹ کر اس ورشن لایا ہے جس کا مضمون ذیل ہے ۔
بخدمت جناب SHO صاحب تھانہ DHA ملتان درخواست بمراد اندراج مقدمہ۔ جناب عالی گزارش ہے کہ سائل بہا الدین زکریا یونیورسٹی میں شعبہ جنگلات میں درس و تدریس سے وابستہ ہے۔ سائل کے خلاف ایک عدد محکمانہ کارروائی زیر التواء ہے۔ امروز مورخہ 11.02.26 بوقت تقریباً 11:45 بجےدن سائل اپنی انکوائری کے سلسلہ میں ایڈ من بلاک BZU کے نزدیک پہنچا تو سائل کے دو شاگرد -1- احسان الحق ولد شمس الحق۔ 2- کاشف محمود ولد ملک منیر ملاقاتی ہوئے اور سائل کے ساتھ گفتگو و شنید کرنے لگے۔ اس دوران محی الدین ڈپٹی رجسٹرار لیگل سیل BZU کا وہاں سے گزر ہوا تو محی الدین نے سائل کو مخاطب کر کے اپنے دفتر میں آنے کا کہا۔ سائل ہمراہ گواہان احسان الحق اور کاشف محمود، محی الدین ڈپٹی رجسٹرار لیگل کے دفتر چلا گیا جہاں پر اس نے سائل سے انکوائری کے معاملہ پر تکرار شروع کر دی اور غلیظ گالیاں دینا شروع کر دی ۔سائل نے ملزم مذکورکو گالیاں دینے سے روکا۔ جس کی بابت وہ طیش میں آگیا اور سائل پر حملہ آور ہو گیا۔ مذکورہ ملزم نے مجھے مکا مارا جو کہ سائل کو ماتھے پر بائیں جانب لگا۔ اسکے بعد سائل پر مزید مکوں اور تھپڑوں کی بارش کر دی۔ گریبان سے پکڑ کر قمیض پوشیدنی پھاڑ دی اور قریب پڑی کرسی سائل کو دے ماری جو کہ میری بائیں ٹانگ پر لگی اور ٹانگ سے خون جاری ہو گیا اور سائل خون میں لت پت ہو گیا ۔گواہان مذکورہ بالا نے دخل اندازی کر کے بڑی مشکل سے میری جان بخشی کرائی اور اس کے دفتر سے باہر لے آئے۔ باہر آکر میں نے 15 پر کال کر کے وقوعہ کی اطلاع دی۔ جس پر گواہان سائل کو علاج معالجہ کے لیے نشتر ہسپتال ملتان لے آئے۔ ملزم محی الدین ڈپٹی رجسٹرار لیگل نے سائل پر جان سے مار دینے کی نیت سے حملہ کر کے سائل کو زخمی کیا۔ کپڑے پھاڑے، اپنے دفتر میں محصور کرنے کی کوشش کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دے کر سخت زیادتی کی ہے ۔ملزم کے خلاف درخواست دیتا ہوں کہ پرچہ درج کیا جائے اور اسکو فور اًگر فتار کر کے مجھے انصاف دلوایا جائے اور ملزم محی الدین کو سخت سے سخت سزا دلوائی جائے آپ کی عین نوازش ہو گی۔ عرضے ۔مورخہ 11.02.2026 دستخط بحروف انگریزی احسان قادر ولد غلام نبی قوم بھا بھہ سکنہ مکان نمبر B انجینئرنگ کالونی BZU ملتان شناختی کارڈ نمبر 3233041617287 فون نمبر 103007218574 کارروائی پولیس اس وقت من SI/INV تھانہ میں موجود ہوں۔ مستغیث احسان قادر نے ایک تحریری درخواست معہ میڈیکل سرٹیفکیٹ نمبر 26 / 269 از اں احسان قادر میرے پیش کیا گیا ہے۔ مضمون درخواست و حالات و واقعات سے اور میڈیکل سرٹیفکیٹ سے سردست صورت جرم 3374 / 3371 / 3371 ت پ پائی جاتی ہے۔ وقوعہ ہذا کی بابت قبل ازیں مقدمہ نمبر 206 / 130 مورخہ 12.02.2026 جرم 186/ 353 ت پ درج ہو چکا ہے۔ لہٰذا مقدمہ عنوان بالا میں کراش درشن قائم کی جاتی ہے۔







