ملتان ریلوے ڈویژن میں مبینہ بےضابطگیاں، قیمتی درختوں کی کٹائی کا انکشاف

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)ملتان ریلوے ڈویژن میں مبینہ کرپشن، قیمتی درختوں کی کٹائی اور فروخت کا انکشاف، انسپکٹر آف ورکس کفایت اللہ کے نامزدگی اور ریلیف دینے کے لیے بھرپور کوششیں،ملتان ریلوے ڈویژن میں وزیرِ ریلوے کے احکامات کے باوجود مبینہ طور پر کرپشن پر قابو نہ پانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ریلوے کالونی کوارٹر نمبر 314-A کے قریب لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی درخت کاٹ کر فروخت کرنے کا مقدمہ درج ہوا مگر اصل ملزمان کونہ پکڑا گیاتفصیلات کے مطابق مبینہ طور پر انسپکٹر آف ورکس کفایت اللہ کی نگرانی میں ٹھیکیدار نعمان ولد محمد اسلم نے متعدد درخت کٹوائے اور لکڑی رکشوں کے ذریعے لکڑ منڈی منتقل کی گئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ درختوں کی کٹائی کے لیے نہ تو کوئی باقاعدہ نیلامی یا ایکشن کیا گیا اور نہ ہی لکڑی آئی او ڈبلیو اسٹور میں جمع کروائی گئی۔بتایا جاتا ہے کہ 12 دسمبر 2025 کو سپیشل برانچ ریلوے ملتان کے ہیڈ کانسٹیبل زاہد اقبال اور انچارج عبدالمجید نے غلہ گودام روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے لکڑی سے لوڈ رکشہ روک لیا۔ کارروائی کے دوران پانچ لکڑی کے ٹکڑے برآمد کیے گئے جبکہ رکشہ ڈرائیور حمزہ سعید ولد محمد سعید کو حراست میں لے لیا گیا، جس کے پاس کسی قسم کا گیٹ پاس موجود نہیں تھا۔واقعے کے بعد انسپکٹر آف ورکس کفایت اللہ اور ٹھیکیدار کے خلاف دفعہ 409/34 پی پی سی کے تحت مقدمہ نمبر 67/25 درج کر لیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملتان ریلوے ڈویژن میں اس سے قبل بھی ریلوے کی ملکیتی درختوں کی کٹائی اور فروخت کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، تاہم مبینہ طور پر مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ انسپکٹر آف ورکس کفایت اللہ 2016 سے ایک ہی اسٹیشن پر تعینات ہیں اور ان پر طویل عرصہ تعیناتی کے دوران مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی جائیداد بنانے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد ریلوے پولیس کی ملی بھگت سے ضمنیوں کے ذریعے ریلیف لینے میں بھرپور کوشش کر رہے ہیںذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بااثر افسر کو ریلیف دینے کے لیے ریلوے پولیس میں مبینہ طور پر ضمنیوں میں ردوبدل کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب ڈی ایس ملتان کی طرف سے بھی اس معاملے پر کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا۔ عوامی حلقوں نے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ ملتان میں گزشتہ دس برسوں کے دوران ریلوے اراضی پر مبینہ قبضوں اور بے ضابطگیوں سے متعلق مزید تفصیلات جلدشائع کی جائیں گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں