عدالتی رٹ قائم، بیوروکریسی بےبس، کمشنر پنڈی، ڈی سی، 6 ریونیو افسران کی تنخواہ ضبط

راولپنڈی ( سپیشل رپورٹر)انتظامی عدالت را و لپنڈی نے عدالتی احکامات کو مسلسل نظر انداز کرنے پر تاریخ ساز اقدام کرتے ہوئے کمشنر راولپنڈی ڈویژن، ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)، تحصیلدار، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ اور حلقہ پٹواری کی تنخواہیں ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ ایڈمن جج راولپنڈی ندیم اصغر ندیم نے واضح قرار دیا کہ ریاستی افسران کا کام عدالتی فیصلوں پر فوری عمل درآمد ہے نہ کہ تاخیری حربے۔ عدالت کے مطابق مذکورہ افسران نے مقدمہ مظہر الحق بنام خالد محمود ملک میں 31 اکتوبر 2023 کے فیصلے پر عمل نہ کرکے قانون کی عملداری کو چیلنج کیا۔عدالتی فیصلے میں 2008 کے متنازع انتقالات کو منسوخ کرکے اصل مالک کو حقِ ملکیت دینے اور قانونی وارثان کے اندراج کا حکم دیا گیا تھا، تاہم ریونیو افسران نے بارہا یاددہانی کے باوجود عدالتی حکم پر عمل نہ کیا جس پر عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ ریاستی عملداری کی بنیاد ہیں۔ اسی تناظر میں عدالت نے تمام نامزد افسران کی تنخواہیں بند کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کی طرف سے ضلعی اکاؤنٹس آفیسر راولپنڈی کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر عدالتی فیصلے کی انٹری کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کریں، قانونی و عدالتی حلقوں میں اس فیصلے کو بیوروکریسی کے لیے سخت وارننگ اور عوام کے لیے امید کی کرن قرار دیا جا رہا ہے کہ اب عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اس سے قبل بھی ایڈمن جج راولپنڈی ندیم اصغر ندیم 1986 میں جائیداد سے محروم ہونے والی زیتون بی بی کو اس کا وراثتی حق دلا چکے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں