بی زیڈ یو: انتظامی اور تعلیمی بدحالی کے بعد افسران، اساتذہ تصادم، الزامات کا سفر شروع

ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی درسگاہ بہاالدین زکریا یونیورسٹی ایک بار پھر انتظامی و اخلاقی بحران کی زد میں ہے۔ کئی برسوں سے انتظامی اور تعلیمی بدحالی کا شکار یہ ادارہ اب طلبہ کی بجائے انتظامی افسران اور اساتذہ کرام کے تصادم، الزامات اور سنسنی خیز انکشافات کی طرف سفر شروع کر چکا ہے۔ گزشتہ روز یونیورسٹی کی دو بااثر تنظیموں اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (ASA) اور آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (OWA) کی جانب سے علیحدہ علیحدہ پریس ریلیز جاری کی گئی ہیں، جنہوں نے ادارے کے اندر جاری کشمکش کو بے نقاب کر دیا ہے۔ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں سنگین الزام عائد کیا ہے کہ فارسٹری ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ نے ایڈمن بلاک میں ڈپٹی رجسٹرار کے دفتر گھس کر ڈپٹی رجسٹرار لیگل پر تشدد کیا جس پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر جامعہ کے اعلیٰ عہدیدار ہی قانون کو ہاتھ میں لیں گے تو طلبا و طالبات کو کیا پیغام جائے گا؟ یاد رہے کہ محی الدین ڈپٹی رجسٹرار لیگل اس تحقیقاتی کمیٹی کے بھی رکن ہیں جو فاریسٹری ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ اور ان ہی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ افضل کے ساتھ ان کے مبینہ شادی و طلاق کے معاملات اور خاتون پروفیسر پر اسی طرح کمرے میں مبینہ تشدد کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مفادات کے اس ممکنہ ٹکراؤ نے پورے عمل کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ دوسری جانب اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی پردہ پوشی اور خاموشی نے بھی اس ابہام کو ہوا دی ہے۔ حیران کن طور پر اساتذہ تنظیم کی جانب سے مذکورہ واقعہ یا الزامات کی کسی بھی قسم کی مذمت سامنے نہیں آئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اساتذہ برادری احتساب سے بالاتر ہے؟ کیا ادارے کی ساکھ سے زیادہ اہم ذاتی وابستگیاں ہو چکی ہیں؟ یونیورسٹی کی تاریخ اس نوعیت کے تنازعات سے خالی نہیں رہی۔ اس سے قبل بھی بعض اساتذہ پر طالبات کو ہراساں کرنے، بلیک میل کرنے اور ذاتی مفادات کے لیے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات تسلسل سے سامنے آتے رہے ہیں۔ ماضی کے بعض واقعات آج بھی والدین کے ذہنوں میں تشویش پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ بہت ہی کم اساتذہ کے مبینہ کردار کا معاملہ ہے، مگر اس کا سایہ پوری تدریسی برادری پر پڑتا ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اداروں کے اندر خود احتسابی کا نظام مضبوط نہ ہو تو چند افراد کا طرزِ عمل پورے تعلیمی ماحول کو آلودہ کر دیتا ہے۔ اساتذہ برادری کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر موجود “کالی بھیڑیوں” سے لاتعلقی کا واضح اعلان کرے اور شفاف تحقیقات کی حمایت کرے، تاکہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ ادارے کی ساکھ بحال ہو اور والدین کا اعتماد متزلزل نہ ہو۔ یقینی طور پر طلبہ و طالبات اور ان کے والدین اس صورتحال میں اضطراب کا شکار ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرکے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہوں۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی جیسے ادارے کی اخلاقی بقا اور وقار کا تقاضا ہے کہ ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قانون اور اخلاقیات کو مقدم رکھا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ بحران نہ صرف انتظامی ڈھانچے کو کمزور کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے تعلیمی مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اساتذہ کی تنظیم اور سٹاف یونین اپنے اپنے وقار اور بھرم پر آلودگی کی گرد ڈالنے والے چند افراد کا احتساب نہیں کر سکتیں اور ان کو اپنی صفوں سے علیحدہ نہیں کر سکتیں تو پھر پگڑیاں سلامت کیسے رہ سکیں گی۔

آفیسرزایسوسی ایشن کے الزامات غیرذمہ دارانہ :اکیڈمک ایسوسی ایشن

ملتان(پ ر)اکیڈ مک ایسوسی ایشن اس امر پر شدید احتجاج اور مذمت کرتی ہے کہ آفیسرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تمام اساتذہ کے رویے کے حوالے سے عمومی اور غیر ذمہ دارانہ الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کسی ایک فرد، چاہے وہ ٹیچر ہو یا آفیسرکے مبینہ عمل کو جواز بنا کر پوری ٹیچرز یا آفیسرز برادری کو موردِ الزام ٹھہرانا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ادارے کی اجتماعی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ متعلقہ معاملہ تاحال زیرِ تحقیق (Under Probe) ہے اور اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ انکوائری ہونا ضروری ہے۔ جب تک تحقیقات مکمل نہ ہوںکسی ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر ماضی اور حال کے تمام اساتذہ کے کردار پر سوال اٹھانا سراسر ناانصافی ہے۔ اکیڈمک ایسوسی ایشن اس بات پر زور دیتی ہے کہ انفرادی عمل کی ذمہ داری انفرادی سطح تک محدود رکھی جائے اور اسے پوری کمیونٹی پر لاگو نہ کیا جائے۔اساتذہ ہمیشہ اپنے پیشہ ورانہ وقار، ادارہ جاتی بہتری اور باہمی احترام کے اصولوں پر کاربند رہے ہیں۔ آفیسرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اس نوعیت کا بیان اساتذہ اور افسران کے درمیان غیر ضروری خلیج پیدا کرنے کی کوشش ہے، جو کسی طور بھی ادارے کے مفاد میں نہیں۔جنرل سیکرٹری اکیڈمک ایسوسی ایشن سیف اللہ قریشی کی جانب سے جاری پریس ریلیزکے مطابق اکیڈمک ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ:1۔ متعلقہ معاملے کی شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں۔2۔ تمام اساتذہ کے بارے میں دیئے گئے عمومی اور غیر مناسب ریمارکس واپس لیے جائیں۔3۔ افیسرز ایسوسی ایشن اپنے بیان پر باقاعدہ وضاحت اور معذرت جاری کرے۔ہم ادارے میں باہمی احترام، تعاون اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ذمہ دار حلقے اس معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں گے۔ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اساتذہ کے حقوق کے تحفظ اور اساتذہ کے ساتھ ناروا سلوک پر احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ تمام ایڈمنسٹریٹو پوسٹوں پر فوری روٹیشن پالیسی لاگو کی جائے تا کہ کوئی بھی ایڈمنسٹریٹو فرعون نہ بنے۔

آفیسرزایسوسی ایشن کی احسان بھابھہ کیخلاف وی سی کودرخواست

ملتان(پ ر)آفیسرزویلفیئرایسوسی ایشن نے ڈاکٹراحسان قادربھابھہ کیخلا ف وی سی کودرخواست دیتےہوئےآج سے دھرنےاورقلم چھوڑہڑتال کااعلان کردیا۔آفیسرزویلفیئرایسوسی ایشن کے صدرراناجنگ شیراورجنرل سیکرٹری خلیل احمدکھورکی جانب سے وی سی کودی گئی درخواست کامتن کچھ اس طرح ہے۔
بخدمت وائس چانسلر صاحب جامعہ زکریا ملتان عنوان درخواست برائے کارروائی بر خلاف ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ
جناب عالی
بروزمورخہ 11 فروری 2026 ڈاکٹر احسان قادربھابھہ ایڈمن بلاک میں ڈپٹی رجسٹر محی الدین کے آفس میں آیا اور ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور زدوکوب کو کیا جس سے ان کے چہرے پر زخم آئے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی۔ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن اس واقعے کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ ماضی میں بھی اساتذہ کا رویہ افسران کے ساتھ غیر مناسب رہا ہے۔ جس سے افسران میں بے چینی اور شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا اب ہم مجبورا ًافس ورک کا بائیکاٹ بھی کر رہے ہیں۔ مزید براں آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ جب تک ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت محکمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی تو تمام افسران اپنے دفاتر میں نہیں بیٹھیں گے اور قلم چھوڑ ہڑتال جاری رہے گی۔ اس ضمن میں آج تمام افسران ایڈمن بلاک کے سامنے پلاٹ میں دھرنا بھی دیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں