رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز پر جواء کھیلنے کیلئے بھارتی ایپس استعمال کئے جانے کا انکشاف،آن لائن جواء ایپ’’بٹ پرو ایپ‘‘کی مالکن انڈین ڈاکٹر وریندہ کمارجبکہ جنوبی پنجاب میں ایڈمن بدنام زمانہ بکی شیخ عثمان نکلا،میچز پر جواء کھیلنے کیلئے ایپ اکاؤنٹس بنانے کیلئے پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کا استعمال کیا جانے لگا،پاکستان کے ہاتھوں امریکہ،نیوزی لینڈ کے ہاتھوں یو اے ای اور نیدر لینڈ کے ہاتھوں نیمبیا کی شکست،بکی کی ایک دن میں لاکھوں، کروڑوں روپے کی کمائی ،گلشن عثمان میں گرلز ہائی سکول کے عقب میں ہیڈ کوارٹر قائم،درجنوں پینٹروں اور بک میکروں کا منظم گروہ متحرک،تھانہ سی ڈویژن پولیس کی ناک تلے جواء،سینکڑوں گھرانے لٹ گئے،نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی،ورثان کا آئی جی پنجاب،ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور ڈی پی اورحیم یارخان سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیل کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی آڑ میں ضلع رحیم یارخان سمیت پورے جنوبی پنجاب میں آن لائن جواء کروانے کا انکشاف ہوا ہے۔باؤثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آن لائن جواء کھیلنے کیلئے استعمال کی جانیوالی “بٹ پرو ایپ”ہمسایہ ملک بھارت سے آپریٹ کی جا رہی ہے اور اس ایپ کی مالکن بھی بھارتی خاتون ڈاکٹر وریندہ کمار ہیں اور جنوبی پنجاب میں اس ایپ کو آپریٹ کرنے ،اکاؤنٹس بنانے اور آن لائن جواء کروانے کیلئے بکیوں کا ایک منظم گروہ تشکیل دیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں “بٹ پرو ایپ”کا ایڈمن بدنام زمانہ بکیہ شیخ عثمان ہے جس نے رحیم یارخان کے پورش ترین علاقہ گلشن عثمان میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کے عقب میں ایک رہائشی مکان میں آن لائن جوائے کا ہیڈ کوارٹر قائم کر رکھا ہے اورجواء ایپ”بٹ پرو”کو آپریٹ کرنے کیلئے پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی ایک ٹیم تشکیل دے رکھی ہے جو اکاؤنٹس بنانے کیساتھ ساتھ آن لائن جواء کھیلنے والوں کی رقم بھی انویسٹ کرتے ہیں۔ذرائع نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ بدنام زمانہ بکیہ شیخ عثمان نے گزشتہ سے پیوستہ روز ہونیوالے پاکستان بمقابلہ امریکہ،نیوزی لینڈ بمقابلہ یو اے ای اور نیدرلینڈ بمقابلہ نیمبیا کے میچز پر رحیم یارخان شہر سمیت جنوبی پنجاب کے بڑے کاروباری شخصیات،سکول،کالج اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں،بے روزگار نوجوانوں کے لاکھوں روپے انویسٹ کرائے،پاکستان اور امریکہ کے میچ پر تقریباٍ10 سے 12 لاکھ روپے،نیوزی لینڈ اور یو اے ای کے میچ پر تقریباً5 سے 8 لاکھ اور نیدر لینڈ اور نیمبیا کے میچ پر 5 لاکھ روپے کا جواء کھیلا گیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے میچ پر لگنے والاجواء ہارٹ فیورٹ رہا جس میں پاکستان کی ہار کا ریٹ 15 پیسہ اور امریکہ کی جیت پر ریٹ 10 پیسے فکس کیا گیا ،اس کے علاوہ پاکستان بلے بازوں کی بیٹنگ پر بھی لاکھوں روپے جواء کھیلا گیا،سنسنی خیز مقابلہ میں پاکستان نے امریکہ کو 32 رنز سے شکست دیدی اور یوں بدنام زمانہ بکیہ شیخ عثمان نے چند گھنٹوں میں تقریباً12 لاکھ روپے کی دیہاڑی مارلی،اسی طرح نیوزی لینڈ نے یو اے ای کو ہرا دیا اور “بٹ پرو”ایپ پر نیوزی لینڈ کی ہار کا ریٹ 10 پیسہ اور یو اے ای کی جیت کا ریٹ12 پیسے مقرر تھا ،یو اے ای کی ہاربکیہ شیخ عثمان کی جیت کا باعث بن گئی اور اس میچ میں بھی لاکھوں روپے کی دیہاڑی ماری گئی۔ذرائع نے ہوشربا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ نیدر لینڈ اور نیمبیا کے میچ پر لاکھوں روپے جواء کھیلا گیا جس پر بکیہ شیخ عظمان ن نوجوانوں کے لاکھوں روپے نیدر لینڈ کی ہار پر انویسٹ کرائے مگر نیدر لینڈ جیت گیا اور نوجوانوں کے لاکھوں روپے ڈوب گئے۔”بٹ پر و ایپ”سے متعلق جان کاری رکھنے والے ایک شہری نے بتایا کہ آن لائن جواء پر ہار ہو جیت بکیہ کو نقصان نہیں ہوتا،پیسہ عوام کا انویسٹ ہوتا ہے اور وہ صرف اپناکمیشن نکال کر بھی لاکھوں روپے کا مالی فائدہ اٹھا لیتا ہے،ذرائع نے بتایا کہ کرکٹ میچز پر جواء کھیلنے والی آن لائن ایپ پر اکاؤنٹس بنانے،رقم انویسٹ کروانے کی مد میں بھی ایپ مالکان کی جانب سے ایڈمن کو بھاری کمیشن دیا جاتا ہے،اسکے علاوہ ذاتی اکاؤنٹس پر جواء کھلوانے کی مد میں بھی بکیے لاکھوں روپے کا ہیر پھیر کرتے ہیں اور جوائے میں جیتی گئی لاکھوں روپے کی رقم کو مختلف بنکس اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کرکے بلیک منی کو وائٹ منی کا نام دیکر نکلوایا جاتا ہے۔متاثرین کے ورثان نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بکیہ شیخ عثمان اور اسکے پنٹروں اور میکروں کی ٹیم نے نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے،انہوں نے آئی جی پنجاب،ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے پنجاب،ڈی پی او رحیم یارخان سے نوٹس لینے اور آن لائن جواء کروانے والے بکیوں کیخلاف بلا امتیاز کاروائیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس حوالے سے موقف جاننے کیلئے بکیے شیخ عثمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے موقف دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کاروباری شخصیت ہیں اور کسی قسم کے غیر قانونی کام میں ملوث نہ ہیں۔







