پنجاب: محکمہ صحت میں ایڈہاک ازم کا آغاز، 1469 ڈاکڑز سپیشل پے پیکج پر تعینات

ملتان (قوم نیوز) حکومت پنجاب کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اور تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتالوں میں 1469 میڈیکل آفیسرز اور ویمن میڈیکل آفیسرز کو سپیشل پے پیکیج کے تحت تعینات کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد محکمہ صحت میں بھی محکمہ تعلیم کی طرز پر ایڈہاک ازم کے آغاز پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریگولر ڈاکٹروں کی جگہ عارضی بنیادوں پر بھرتیاں نظامِ صحت کے لیے طویل المدتی مسائل کو جنم دے سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق سپیشل پے پیکیج کے تحت تعینات ہونے والے ڈاکٹروں میں ڈی ایچ کیو ملتان صدر میںعدینہ طاہر اور ڈاکٹر ماریہ ملک، شہباز شریف ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ملتان میں مشعال عارف، ٹی ایچ کیو فیصل آباد کی ڈاکٹر وجیہہ مریم، گوجرانوالہ ٹی ایچ کیو کی ڈاکٹر ثمن افتخار، ڈی ایچ کیو مظفرگڑھ کے حمزہ سلیم اور ڈی ایچ کیو راجن پور کے فرحان جاوید سمیت دیگر شامل ہیں۔ محکمہ صحت کے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ڈاکٹرز کی شدید کمی کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ عوام کو فوری طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔تاہم اس فیصلے کے مضمرات پر ماہرین صحت اور ڈاکٹرز تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) پنجاب کے ایک عہدیدار نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “عارضی بنیادوں پر سپیشل پے پیکیج دینا وقتی حل تو ہو سکتا ہے مگر اس سے مستقل سروس اسٹرکچر متاثر ہوگا اور ریگولر ڈاکٹروں میں بے چینی بڑھے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ مستقل اسامیوں پر شفاف بھرتی کرے اور سروس اسٹرکچر واضح کرے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما نے بھی اس اقدام کو “ایڈہاک ازم کی نئی شکل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم کے بعد اگر محکمہ صحت میں بھی یہی ماڈل اپنایا گیا تو ادارہ جاتی استحکام متاثر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیشل پے پیکیج پر تعینات ڈاکٹروں کے کنٹریکٹ، مدت ملازمت اور مستقبل کے بارے میں واضح پالیسی سامنے نہیں لائی گئی، جس سے انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے محکمہ صحت پر کئی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف اگر دور دراز ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی دستیابی بہتر ہوتی ہے تو مریضوں کو فوری ریلیف مل سکتا ہے، مگر دوسری جانب ریگولر اور کنٹریکٹ ملازمین کے درمیان تنخواہوں اور مراعات کا فرق ادارہ جاتی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ مزید برآں، عارضی بنیادوں پر بھرتیاں تسلسل اور جوابدہی کے نظام کو بھی کمزور کر سکتی ہیں۔محکمہ صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سپیشل پے پیکیج خالصتاً عوامی مفاد میں متعارف کرایا گیا ہے اور اس کا مقصد خالی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کرنا ہے۔ ان کے مطابق حکومت مستقبل میں سروس اسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ادھر شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے سے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی پوری ہوتی ہے تو یہ خوش آئند ہے، تاہم حکومت کو چاہیے کہ عارضی اقدامات کے بجائے مستقل اور پائیدار پالیسی اختیار کرے تاکہ محکمہ صحت کسی بھی قسم کے انتظامی بحران سے محفوظ رہ سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں