ریلوے میں میرٹ پر بھرتی مہنگی پڑ گئی، رشوت مافیا کے دباؤ پر افسران کے تبادلے

ملتان (نمائندہ خصوصی) ناکردہ گناہ کی سزا، ڈیل کے بعد ملازمت دینے کا الزام، بھرتی کا عمل مکمل ہونے کے بعدچارج سنبھالنے والے ایگزیکٹو انجینئرسمیت تین افسران کو چیف پرسانل آفیسر کی صوابدید پر بھجوا دیا گیا جبکہ بھرتی کا عمل مکمل کرنے والے ایگزیکٹو انجینئر کو ایک ماہ بعد ہی واپس تعینات کر دیا گیا۔سیاسی دباؤ اور خدمت کے عوض ریلوے میں بھرتی کروانے والے مافیا کے امیدواروں کو نظر انداز کرنا بھرتی کمیٹی میں شامل گریڈ 18 کی خاتون آفیسر ایک ڈویژنل ایگزیکٹو انجینئر اور بھرتی کے عمل سے دور تک تعلق نہ ہونے والے ایک ایگز یکٹو انجینئر کے لئے مہنگا ثابت ہوا۔ مافیا نے کمال کر دیا اس آفیسر کا بھی تبادلہ کروا دیا جس نے کلاس فور کی بھرتی کے بعد چارج سنبھالا تھا۔ ذرائع کےمطابق گزشتہ ماہ جنوری کے پہلے ہفتے میں اس وقت کے ڈویژنل ایگزیکٹو انجینئرز تھری متین احمد خان کے سیکشن کے لئے 5 گیٹ کیپرز جبکہ ڈویژنل ایگزیکٹو انجینئر ون ریحان صابر کے سیکشن میں ایک گینگ مین کی بھرتی کے لئے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے ملتان نے ڈویژنل ایگزیکٹو انجینئرز تھری، ڈویژنل ایگزیکٹو انجینئرز ون اور خاتون ڈویژنل پرسانل آفیسر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔بتایا جاتا ہے کہ ڈی ایس ملتان نے خاتون پرسانل آفیسر کو ہدایت کی کہ ممکن حد تک اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ بھرتی کا عمل میرٹ پر ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کلاس فور کی 6 عارضی اسامیوں پر بھرتی کے عمل کی منظوری کا علم ہوتے ہی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آفس میں موجود کلریکل مافیااس موقع پر پیسہ کے عوض بھرتی کروانےکے لئے سرگرم ہو گیا تو دوسری جانب جنوبی پنجاب کی ایک ایم سیاسی شخصیت نے بھی اپنے امیدواروں کو بھرتی کروانے کے لئے کمیٹی پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی میں موجود خاتون ڈویژنل پرسانل آفیسر نے باوجود اس کے کہ کمیٹی میں شامل دونوں سول انجینئرز آفیسرز مافیا کے سامنے بے بس نظر آرہے تھے۔ رشوت کےعوض بھرتی کروانے والےاندورنی مافیا کے ساتھ ساتھ بیرونی طور پر طاقتور سیاسی مافیا کی سفارش کو نظر انداز کرنے اور میرٹ پر بھرتی کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا خاتون آفیسر کے دو ٹوک فیصلہ کے بعد دیگر دو آفیسرز کو بھی میرٹ پر بھرتی کا حصہ بننا پڑا تاہم سیاسی اور رشوت خور مافیا کی طرف سے بھرتی کو خلاف میرٹ ثابت کرنے کے حوالے سے وزارت ریلوے کو شکایت پر مبنی تحریر بھجوائی گئی جس پر وزارت ریلوے نے ڈی جی ویجیلینس سیل ڈی آئی جی ریلوے پولیس کو تحقیقات کرنے کی ہدایت کی بتایا جاتا ہے کہ ڈی جی ویجیلینس سیل نے سیاسی اور رشوت خور مافیا کے الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے عارضی بھرتی میں رشوت وصولی کو بے بنیاد قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق بھرتی کے اس عمل میں رشوت الزامات کے بعد مافیا کی شکایت پر ڈی آئی جی کی رپورٹ سے پہلے ہی حاجی محمد کو بھی بھرتی میں رشوت کے الزام کے ساتھ فوری چارج چھوڑتے ہوئے سی پی او ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔تبادلہ ہونے والا معاملہ بھی دلچسپی سے بھرپور ہے جس میں بھرتی کمیٹی کے ممبر ڈی این تھری متین احمدکا بھرتی کے فوری بعد تبادلہ ہوگیاتھاانکی جگہ حاجی محمد کو ڈی این تھری لگایا گیا تاہم وزرات ریلوے کو رشوت کی وصولی کی تحریری شکایت بھجوانے والا مافیا اس امر سے بھی نابلد تھا کہ بھرتی کا عمل مکمل کرنا والا آفیسر تبادلہ ہوگیا ہے اور اس کی جگہ حاجی محمد تعینات ہوگیا ہےچند روز قبل بھرتی میں رشوت الزام کے تحت حاجی محمد کا تبادلہ کیاگیا ہے اور ایک بار پھر بھرتی کا عمل مکمل کرنے والے سول انجینئر متین احمد خان کو ڈی این تھری ملتان تعینات کردیا گیا ہے۔تبادلہ کے اس عمل نے ریلوے بھر میں افسران سمیت ملازمین کو حیرت میں مبتلا کردیا کہ محض ایک الزام پر تحقیقات سے قبل اس آفیسر کو بھی تبادلہ کردیا گیا جس کی تعیناتی کو مہینہ بھی پورا نہیں ہوا اور جس کا بھرتی کے عمل سے کچھ واسطہ نہ تھا دوسری طرف بھرتی کمیٹی میں شامل آفیسر کو دوبارہ اس سیٹ پر تعینات کردیا گیا ہےاس صورتحال پر ریلوے ملازمین سمیت دیگر حلقوں نے وفاقی وزیر ریلوے،چیف ایگزیکٹو و سینئر جنرل منیجر ریلوے اور دیگر ذمہ دران سے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں