بہاولپور میں جعلی رجسٹری اور مبینہ ساز باز، تاجر کا چلتا کاروبار بند

بہاول پور ( کرائم سیل)فرضی رجسٹریوں اور مبینہ ساز باز سے چلتا کاروبار بند، ضلعی انتظامیہ کی خاموشی پر سنگین سوالات ، تاجر شٹل کاک بن کر رہ گیا فرضی قبضہ، بوگس رجسٹریوں اور مبینہ انتظامی ساز باز کے ذریعے ایک باقاعدہ رجسٹرڈ اور چلتے ہوئے کاروبار کو بند کر دیے جانے کا سنگین معاملہ سامنے آ گیا ہے، جس کے باعث ایک تاجر گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے دربدر اور لاکھوں روپے کے نقصان سے دوچار ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شفاف طرزِ حکمرانی کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ متاثرہ تاجر مجاہد حسین کے مطابق انہوں نے بذریعہ عدالتی ڈگری محمد عمران ولد طالب حسین سے 1/2-1 مرلہ کمرشل دکان موضع اوچ گیلانی، تحصیل احمد پور شرقیہ میں خریدی، جس پر وہ قانونی طور پر قابض اور برسوں سے کاروبار کر رہے تھے۔ تاہم ان کے بقول شیخ وقاص نامی شخص نے چھ سال بعد ایک رہائشی پلاٹ کی کمرشل رجسٹری کروائی جو ان کی دکان سے تقریباً ایک کلومیٹر دور واقع ہے، اور اسی مبینہ جعلی بنیاد کو استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف درخواستیں دی گئیں۔متاثرہ تاجر کا کہنا ہے کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہونے کے باوجود ایک من گھڑت واقعات پر مبنی درخواست پر ڈی ایس پی نے ان کا چلتا ہوا کاروبار بند کرا دیا، حالانکہ پٹواری حلقہ کی ریونیو رپورٹس میں قبضہ تاجر کے حق میں ثابت ہو چکا ہے۔ کاروبار بند ہونے کے باعث نہ صرف انہیں لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا بلکہ ایک معروف موبائل کمپنی کی ڈسٹری بیوشن سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ مزید انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پر نائب تحصیلدار شاہ نواز اور گرداور رانا طارق کی ملی بھگت سے ایک نئی درخواست پر انکوائری کا عمل متنازع بنا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں بننے والی چھ رکنی انکوائری کمیٹی پر دباؤ ڈال کر مبینہ طور پر خود ساختہ رپورٹ تیار کروانے اور کمیٹی ممبران سے دستخط کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ ایک انکوائری کمیٹی ممبر کی وائس ریکارڈنگ میں کرپشن اور دھوکا دہی کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے باوجود معاملے کو دبا دینے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں معاملہ اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر گیا جب متاثرہ تاجر کے مطابق 2020 میں پٹواری حلقہ سے حاصل کی گئی بوگس فردِ ملکیت میں کمرشل دکان کا نقشہ شامل کر کے قیمتی جائیداد ہتھیانے کی کوشش کی گئی، تاہم بائعہ عزیز مائی نے نہ صرف دکان فروخت کرنے بلکہ ماضی میں کسی بھی قسم کے ملکیتی دعوے کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دے دیا متاثرہ تاجر مجاہد حسین نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو بہاولپور کو باقاعدہ درخواستیں دے کر مطالبہ کیا ہے کہ متنازع انکوائری کمیٹی کو فوری طور پر تحلیل کر کے غیر جانبدار اور بااختیار افسران پر مشتمل نئی کمیٹی تشکیل دی جائے، جبکہ مبینہ طور پر متنازع کردار ادا کرنے والے افسران کو انکوائری سے الگ کیا جائے اور فیصلے کی تکمیل تک اسے حسب سابق اپنا کاروبار جاری رکھنے دیا جائے ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں