پی ایس ایل: ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت ہو کر پرائی، نیا نام راولپنڈی-پی ایس ایل: ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت ہو کر پرائی، نیا نام راولپنڈی-محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا-محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا-ملتان: تنخواہ صرف 18 ہزار وہ بھی 3 ماہ سے بند، ستھرا پنجاب ملازمین کا مظاہرہ، دھرنا-ملتان: تنخواہ صرف 18 ہزار وہ بھی 3 ماہ سے بند، ستھرا پنجاب ملازمین کا مظاہرہ، دھرنا-ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی-ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی-یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران-یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران

تازہ ترین

ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)پاکستان ریلوے ملتان ڈویژن میں کرپشن کی سنگین شکایات پر تبدیل کیے جانے والے افسران کی جانب سے اپنی تعیناتیوں کو بحال کرانے کے لیے بھرپور تگ و دو شروع ہو گئی ہے۔ وزیرریلوے کے نوٹس لینے اور فوری ایکشن کے باوجود تاحال ان افسران کو نئی پوسٹنگ نہیں مل سکی جس کے بعد ریلوے ہیڈ کوارٹر میں بے چینی کی فضا قائم ہے۔ذرائع کے مطابق ویجیلنس ڈیپارٹمنٹ کی خفیہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ریلوے ملتان ڈویژن کے تین سینئر افسران کو ٹی ایل اے (TLA) بھرتیوں میں بے ضابطگیوں، رشوت ستانی اور مبینہ کرپشن کے الزامات پر فوری طور پر تبدیل کر کے چارج چھوڑنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ تبدیل کیے جانے والے افسران میں ریحان صابر (ڈویژنل انجینئر ون)، حاجی محمد (ڈویژنل انجینئر تھری) اور مس نبیلہ اسلم (ڈی پی او ملتان) شامل ہیں۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں افسران اس وقت اپنی پوسٹنگ بچانے یا دوبارہ بحال کروانے کے لیے سیاسی اور بیوروکریسی کی ہر ممکن سفارش استعمال کر رہے ہیں۔ ریلوے ہیڈ کوارٹر میں ان افسران کے فوری تبادلے اور چارج چھوڑنے کا معاملہ زبان زدِ عام ہے، جبکہ مختلف سطحوں پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ ٹی ایل اے بھرتیوں کے نام پر مبینہ طور پر لاکھوں روپے کمائے جا رہے تھے، جس کا خفیہ آپریشن ریلوے کے ویجیلنس ڈیپارٹمنٹ نے کیا۔ آپریشن کے بعد مرتب کی گئی تفصیلی رپورٹ براہِ راست وفاقی وزیر ریلوے کو ارسال کی گئی، جس پر وزیر ریلوے نے بلا تاخیر ایکشن لیتے ہوئے تینوں افسران کو فوری طور پر تبدیل کر کے ان کی جگہ نئے افسران تعینات کر دیے۔معاملے میں سب سے زیادہ توجہ مس نبیلہ اسلم پر مرکوز ہے جو سابق ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر کی اہلیہ ہیں۔ چونکہ رانا رضوان قدیر کا تعلق بھی ملتان سے ہے۔اس لیے ذرائع کے مطابق سیاسی سطح پر بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس تعیناتی کو بحال کروا لیا جائے۔ اس مقصد کے لیے اعلیٰ سیاسی اور بیوروکریسی حلقوں میں سفارشوں کا ماحول گرم کر دیا گیا ہے تاکہ ریلوے انتظامیہ اور وفاقی وزیر ریلوے کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی پر مجبور کیا جا سکے۔عوامی اور ریلوے ملازمین حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کرپشن کے خلاف شروع کیے گئے اس ایکشن کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور کسی بھی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شفاف تحقیقات مکمل کی جائیں، تاکہ پاکستان ریلوے کو کرپشن فری ادارہ بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں