پی ایس ایل: ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت ہو کر پرائی، نیا نام راولپنڈی-پی ایس ایل: ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت ہو کر پرائی، نیا نام راولپنڈی-محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا-محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا-ملتان: تنخواہ صرف 18 ہزار وہ بھی 3 ماہ سے بند، ستھرا پنجاب ملازمین کا مظاہرہ، دھرنا-ملتان: تنخواہ صرف 18 ہزار وہ بھی 3 ماہ سے بند، ستھرا پنجاب ملازمین کا مظاہرہ، دھرنا-ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی-ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی-یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران-یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران

تازہ ترین

یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران

ملتان (سٹاف رپورٹر) یونیورسٹی یا تفریحی نیٹ ورک؟ جب طلبہ کو علم کے بجائے فارم ہاؤسز کی نذر کر دیا جائے۔ یہ وہ نتائج ہیں جن کے بارے میں خبردار کیا گیا تھااور اب وہ محض اندیشے نہیں رہےبلکہ حقیقت بن چکے ہیں۔ جب یونیورسٹی جیسے سنجیدہ اداروں کو قانون، ضابطے اور تعلیمی اقدار کے بجائے ذاتی تعلقات، اقربا پروری اور شخصی مفادات کی بنیاد پر چلایا جائے تو پھر تعلیمی ادارہ نہیں، کچے کے علاقے کا ڈیرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی تصاویر، ویڈیوز اور تفصیلات کے مطابق مختلف جامعات میں بعض اساتذہ اور انتظامی عہدوں پر فائز افراد طلبا و طالبات کو تعلیمی سرگرمیوں کے نام پر نجی فارم ہاؤسز تک لے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملتان کی ایک یونیورسٹی کے ایک ڈیپارٹمنٹ کی خاتون ڈائریکٹر اپنے قریبی دوست جو حالیہ عرصے میں غیر معمولی طور پر صاحبِ حیثیت ہوا اور نجی سکول و کالج کا پرنسپل بھی ہے کے فارم ہاؤس پر طلبا و طالبات کو لے جانے کا اہتمام کرتی رہی ہیں، جہاں مبینہ طور پر پارٹیاں، موسیقی، بھنگڑا، کھانا پینا اور غیر رسمی محفلیں منعقد ہوئیں۔ یہ سوال اب محض انتظامی نہیں رہا، بلکہ خالصتاً اخلاقی اور سماجی بن چکا ہے۔ کیا سرکاری یونیورسٹی کے طلبہ کو کسی نجی فرد کے فارم ہاؤس پر لے جانا کسی بھی قانون، ضابطے یا اخلاقی معیار کے تحت جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ ایک سینئرپروفیسر نے روزنامہ قوم سے گفتگو میں کہا کہ ہم شکر گزار ہیں کہ میڈیا نے ہمیشہ ہمارے ادارے کے بارے میں مثبت رویہ رکھا، مگر اب خاموشی جرم کے مترادف ہے۔ جب شعبوں کے بچے بچیوں کو دوسروں کے پرائیویٹ فارم ہاؤس پر لے جایا جائے، اور یہ سب کچھ اعلیٰ انتظامیہ کے علم میں ہو، تو کیا یہ ادارہ جاتی ہراسمنٹ نہیں؟ ادارے اسی طرح برباد کیے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں کا سب سے خطرناک پہلو وہ سوالات ہیں جو آج نہیں، کل اٹھیں گے۔ آج شاید یہ سب’’تفریح‘‘سمجھا جا رہا ہو، مگر کل جب انہی طالبات کی شادیاں ہوں گی، جب وہ سسرالی زندگی میں قدم رکھیں گی اور اگر کسی تقریب، کسی محفل یا کسی تصویر کے ذریعے یہ سوال سامنے آ گیا کہ آپ فلاں کے فارم ہاؤس پر کیا کر رہی تھیں؟ تو ان کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہو گا۔ اس لمحے نہ وہ استاد ساتھ ہوں گے، نہ وہ انتظامیہ، اور نہ وہ ادارہ جس نے آج انہیں’’سرگرمی‘‘کے نام پر وہاں بھیجا۔ یہ محض ایک لمحاتی شرمندگی نہیں، بلکہ زندگی بھر کا بوجھ بن سکتا ہے۔ ایک سوال، ایک تصویر، ایک ویڈیواور ایک طالبہ کا مستقبل شک و شبہ کی نذر ہو سکتا ہے۔ کیا کسی استاد، کسی ڈائریکٹر یا کسی یونیورسٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طلبہ کے سماجی مستقبل کو اس طرح داؤ پر لگا دے؟ ذرائع کے مطابق یہ دورہ ملتان کے قریب واقع اسی نجی اسکول و کالج کے مالک کے فارم ہاؤس کا تھا، جہاں مخصوص ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ و طالبات کو لے جایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کب، کس اجازت سے اور کس مقصد کے تحت؟ اگر سب کچھ شفاف تھا تو اسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر ماضی میں اساتذہ نے انتظامی تقرریوں اور غیر قانونی اقدامات پر سوال اٹھانے کی جرات کی ہوتی تو آج جامعات میں گروہ بندی اور ذاتی وفاداریوں کا راج نہ ہوتا۔ افسوس کہ اب اس کی قیمت طلبہ ادا کر رہے ہیں۔اپنی تعلیم، اپنی عزت اور اپنے مستقبل کی صورت میں۔ یہ کسی ایک فرد یا ایک ادارے کی خبر نہیں، بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک سنگین وارننگ ہے۔ اگر اب بھی قانون، اخلاقیات اور ذمہ داری کی طرف واپسی نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں یہ سوال صرف فارم ہاؤسز تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ہر اس گھر کی دہلیز پر دستک دے گا جہاں آج کے طلبہ کل دلہن یا دولہا بن کر داخل ہوں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں