ملتان (سٹاف رپورٹر) پاکستان کی تاریخ میں سڑکوں کی تعمیر پر حکومت پنجاب کل بدھ 11 فروری کو ایک ہی وقت میں صوبہ بھر میں محکمہ ہائی ویز کے زیر انتظام ایک کھرب 10 ارب روپے سے زائد کے شاہرات کی تعمیرات کے ٹینڈر جاری کر رہی ہے اور صوبہ بھر میں حکومتی پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی کے لیے تقریبا ً48 کروڑ روپے فی صوبائی حلقہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی میں اس وقت حکومتی پارٹی کے 229 اراکین صوبائی اسمبلی ہیں۔ سیکرٹری کمیونیکیشن اینڈ ورکس پنجاب نے انتہائی باریک کھیل کھیلتے ہوئے بڑے بڑے تعمیراتی گروپوں کو اکاموڈیٹ کرنے کے لیے ایک طرف تو زر ضمانت کی رقم ٹینڈر کی مالیت کے مطابق دو فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کر دی ہے اور دوسرے ای ٹینڈرنگ کی بنیاد پر ٹینڈرز میں کامیابی حاصل کرنے والی کمپنی کے لیے پرفارمنس سکیورٹی پانچ فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دی ہے۔ اس طرح سے گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹھیکے داروں کو جو کام دو فیصد زر ضمانت اور پانچ فیصد پرفارمنس سکیورٹی یعنی مجموعی طور پر سات فیصد ادا کرکے ترقیاتی کام شروع کرنے کی اجازت مل جاتی تھی ، اب وہ سات فیصد کے بجائے 15 فیصد کر دی گئی ہے اور اس طرح سے ایک کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کو شروع کرنے سے قبل ہی 15 لاکھ روپے ٹھیکے دار کو اپنی جیب سے حکومت کے کھاتے میں جمع کروانے ہوں گے جس سے ہزاروں کی تعداد میں ٹھیکے دار ٹینڈرز کے پراسس سے 15 فیصد گورنمنٹ کے کھاتے میں جمع کروانے میں ناکام ہو کر مقابلے سے باہر ہو جائیں گے اور اس کے علاوہ وہ بہت کم ٹینڈروں میں حصہ لے سکیں گے۔ اس طرح محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے چند بڑے گھروں کو اکاموڈیٹ کرتے ہوئے ہزاروں ٹھیکے داروں کو روزگار کے مواقع سے محروم کر دیا ہے۔ اس سے قبل کئی دہائیوں سے صوبہ بھر میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے کبھی بھی ایک دن میں تمام ڈویژنوں اور اضلاع میں ٹینڈر نہیں ہوئے تھے اور ٹھیکے دار اگر کسی ایک ڈویژن یا ایک ضلع میں کام حاصل نہیں کر پاتے تھے تو وہ کسی دوسرے ضلع میں جا کر مقابلے میں حصہ لے لیتے تھے، اب ان سے یہ سہولت بھی چھین لی گئی ہے۔







