پی ایس ایل: ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت ہو کر پرائی، نیا نام راولپنڈی-پی ایس ایل: ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت ہو کر پرائی، نیا نام راولپنڈی-محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا-محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا-ملتان: تنخواہ صرف 18 ہزار وہ بھی 3 ماہ سے بند، ستھرا پنجاب ملازمین کا مظاہرہ، دھرنا-ملتان: تنخواہ صرف 18 ہزار وہ بھی 3 ماہ سے بند، ستھرا پنجاب ملازمین کا مظاہرہ، دھرنا-ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی-ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی-یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران-یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران

تازہ ترین

لوکل گورنمنٹ رٹ چیلنج، انسپکٹر منیر کی بھتہ خوری پر سی او میٹرو پولیٹن ملتان خاموش

ملتان (خصوصی رپورٹ) میٹروپولیٹن کارپوریشن ملتان ایک بار پھر سنگین الزامات، مبینہ کرپشن اور ادارہ جاتی سرپرستی کے باعث خبروں کی زینت بن گئی ہے۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ بورڈ لاہور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری لیٹر کے بعد انسپکٹر منیر احمد کے خلاف غیر قانونی وصولیوں کے الزامات نے ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے، تاہم حیران کن طور پر الزامات کی سنگینی کے باوجود عملی کارروائی نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ بورڈ، لوکل گورنمنٹ کمپلیکس، آصف چوک، سندہ روڈ لاہور کی جانب سے 21 اکتوبر 2025 کو جاری کردہ لیٹر نمبرLCS (Comp-C-11) 6-(36)/2023میں چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ملتان کو ہدایت کی گئی کہ انسپکٹر منیر احمد (سینئر کلرک / انکروچمنٹ انسپکٹر) کے خلاف موصول ہونے والی شکایت کی روشنی میں فوری اقدامات کیے جائیں۔ لیٹر کے مطابق ممتازآباد ٹاؤن ملتان کے ریڑھی بان یونین سے تعلق رکھنے والے محمد اکرم اور دیگر افراد نے مشترکہ شکایت درج کروائی جس میں الزام لگایا گیا کہ منیر احمد روزانہ فی ریڑھی 1000 روپے غیر قانونی طور پر وصول کر رہا تھا اور حال ہی میں اس رقم کو بڑھا کر 1500 روپے یومیہ کرنے کا مطالبہ بھی شروع کر دیا گیا تھا۔ شکایت کی سنگینی کے پیش نظر لیٹر میں منیر احمد کو ریگولیشن برانچ سے ٹرانسفر کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکٹر منیر احمد کو میٹروپولیٹن کارپوریشن میں سب سے زیادہ منتھلی اکٹھی کرنے والا افسر تصور کیا جاتا ہے۔ مبینہ طور پر وہ مختلف شعبوں، بالخصوص شادی ہالوں اور کمرشل سرگرمیوں سے خطیر رقوم بطور ماہانہ منتھلی وصول کرتا رہا ہے۔ ایک سورس رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ صرف چند شادی ہالوں سے ہی 11 لاکھ روپے ماہانہ اکٹھے کیے جا رہے تھے تاہم یہ رپورٹ بھی بعد ازاں دبا دی گئی۔ انسپکٹر منیر احمد نے مذکورہ سورس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ رپورٹ میونسپل کارپوریشن کے شرپسند عناصر کی جانب سے تیار کروائی گئی اور ان کے بقول’’میونسپل کارپوریشن ملتان سازشی عناصر کا گڑھ بن چکی ہے جہاں افسران کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘‘تاہم میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے اپنے ہی ملازمین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر رپورٹ جھوٹی تھی تو اس کی شفاف انکوائری کیوں نہ ہوئی اور اگر درست تھی تو اسے دبانے کے ذمہ دار کون ہیں؟ ذرائع کے مطابق انسپکٹر منیر احمد یہ دعویٰ بھی کرتا رہا ہے کہ وہ جو کچھ وصول کرتا ہے’’وہ سب اوپر تک جاتا ہے‘‘اور اسی وجہ سے اس کے خلاف کوئی بھی افسر یا ادارہ مؤثر کارروائی نہیں کر سکتا۔ یہی دعویٰ ادارے کے اندر موجود ایک مبینہ منظم منتھلی سسٹم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس تمام معاملے میں چیف آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن اقبال خان کا کردار بھی انتہائی مشکوک ہے۔ اقبال خان گریڈ 18 کے افسر ہیں اور ڈپٹی چیف آفیسر کے عہدے پر تعینات ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن میں گریڈ 19 کے افسران کی موجودگی کے باوجود ایک گریڈ 18 کے افسر کو 19ویں گریڈ کا ایڈیشنل چارج دینا نہ صرف قواعد سے ہٹ کر ہے بلکہ ادارے کی شفافیت اور قانونی حیثیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ شہری اور سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ اسی غیر معمولی انتظامی سرپرستی کے باعث انسپکٹر منیر احمد کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے سرکاری خطوط، شکایات اور سورس رپورٹس آنے کے باوجود عملی کارروائی ہوتی نظر نہیں آتی۔ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ملازمین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو میٹروپولیٹن کارپوریشن ملتان ایک عوامی خدمت کے ادارے کے بجائے مبینہ کرپشن نیٹ ورک کا مرکز بن کر رہ جائے گی۔ شہریوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پنجاب حکومت، کمشنر ملتان ، ڈپٹی کمشنر ملتان ، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور اعلیٰ حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، آزاد اور شفاف انکوائری کروائی جائے اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قانون کی بالادستی اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں