پی ایس ایل: ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت ہو کر پرائی، نیا نام راولپنڈی-پی ایس ایل: ملتان سلطانز سب سے مہنگی ٹیم، 2 ارب 45 کروڑ میں فروخت ہو کر پرائی، نیا نام راولپنڈی-محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا-محکمہ صحت پنجاب میں ایک اور بڑا کرپشن سکینڈل سامنے آ گیا-ملتان: تنخواہ صرف 18 ہزار وہ بھی 3 ماہ سے بند، ستھرا پنجاب ملازمین کا مظاہرہ، دھرنا-ملتان: تنخواہ صرف 18 ہزار وہ بھی 3 ماہ سے بند، ستھرا پنجاب ملازمین کا مظاہرہ، دھرنا-ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی-ریلوے ملتان سکینڈل: افسران کی بحالی کیلئے سیاسی و بیوروکریسی دباؤ، ہیڈ کوارٹر میں بے چینی-یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران-یونیورسٹی فارم ہاؤس تفریحی نیٹ ورک؟ طلبہ کو نجی محفلوں کی نذر کرنے پر تعلیمی و اخلاقی بحران

تازہ ترین

وائس چانسلرز تنخواہ 10 لاکھ ماہانہ، 15 متنازع ہیڈز سے آمدن میں تین گنا اضافہ، ہوشرُبا تفصیلات

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کی مختلف سرکاری جامعات میں تعینات وائس چانسلرز کے عہدے کے سٹیٹس اور وقار کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے بعض اقدامات بارے ہوشربا اور تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے اعلیٰ تعلیم کے نظام کو مراعاتی اشرافیہ کی جاگیر بنا کر رکھ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلرز کی جانب سے منظور شدہ بنیادی تنخواہ کے علاوہ کم از کم 15 مختلف غیر معمولی اور متنازعہ ہیڈز کے تحت بھاری مراعات وصول کر رہے ہیں، وہ بھی ایسے طریقوں سے جن کی قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں اور اس لحاظ سے ایک طرح سے منظم کرپشن کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ان مراعات میں ماہانہ تنخواہ کے علاوہ لیو انکیشمنٹ، انٹرٹینمنٹ الاؤنس، پٹرول، بجلی کے بل، مختلف قسم کے بونس، ایم فل الاؤنس، پی ایچ ڈی الاؤنس، پنشن کٹوتیوں کی آڑ میں اضافی فوائد، انٹری ٹیسٹ الاؤنس، میڈیکل سہولیات، موبائل پوسٹ پیڈ بلز، ایڈمیشن فیس سے مبینہ فوائد، ریسرچ گرانٹس پر کمیشن، سمر کیمپ الاؤنس اور دوسرے شہروں میں ذاتی تقاریب کو کانفرنس یا ورکشاپس ظاہر کرکے ٹی اے ڈی اے کی مد میں بھاری رقوم شامل ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اصول بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی ملازم اپنی تنخواہ اور مراعات صرف اسی اتھارٹی کی منظوری سے حاصل کر سکتا ہے جس نے اسے تعینات کیا ہو۔ مگر حیران کن طور پر وائس چانسلر حضرات اپنی ہی بنائی گئی یا اپنے زیرِ اثر سنڈیکیٹس سے ان مراعات کی دبائو کے تحت منظوری کروا لیتے ہیں۔ بعض جامعات میں تو ایسے ایجنڈے بھی منظور کروائے گئے جن کی نہ یونیورسٹی ایکٹس میں اجازت ہے اور نہ ہی سروس رولز میں کوئی گنجائش موجود ہے مگر یہ سب کچھ ’’یونیورسٹی خود مختاری‘‘کے خوشنما نعرے کی آڑ میں کھلے عام کیا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وائس چانسلرز کی تقرری گورنمنٹ آف پنجاب اور چانسلر کی منظوری سے ہوتی ہے تو پھر ان کی اضافی مراعات اور ادائیگیاں انہی اتھارٹیز کی پیشگی اجازت کے بغیر کیسے حاصل کی جا رہی ہیں؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض وائس چانسلرز کی ماہانہ آمدن ان کی منظور شدہ تنخواہ سے بھی تین گنا تک بڑھ چکی ہےجو کسی بھی طور پر قابلِ قبول نہیں اور قومی خزانے پر بھیانک وار ہے۔ مزید انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ تقریباً ہر یونیورسٹی میں وائس چانسلر کو ایک ایسا’’بااعتماد ایڈوائزر‘‘دستیاب ہوتا ہے جو انہیں غلط، گمراہ کن اور غیر قانونی مشورے دے کر ناجائز آمدن کے طریقے سکھاتا ہے۔ جب آڈٹ، انکوائری یا احتساب کا مرحلہ آتا ہے تو تمام کیسز صرف وائس چانسلرز کے خلاف بنائے جاتے ہیں جبکہ یہ ایڈوائزر پس منظر میں رہ کر بچ نکلتا ہے۔ بعد ازاں وائس چانسلرز کے حصے میں صرف پچھتاوا، بدنامی اور قانونی الجھنیں ہی آتی ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ وائس چانسلرز کی پہلے ہی منظور شدہ تنخواہیں اور مراعات ایک ملین روپے ماہانہ کے لگ بھگ ہیں، اس کے باوجود مراعات کی یہ بے لگام دوڑ رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ حال ہی میں ملک بھر کی بیشتر جامعات کے بارے میں یہ انکشاف بھی سامنے آ چکا ہے کہ انہوں نے اپنی مقرر کردہ تنخواہوں سے کہیں زیادہ رقوم وصول کیںجس پر آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے آڈٹ پیراز بھی بنائے گئے۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ ان رقوم کی ادائیگی اور ریکوری میں کئی کئی سال لگ جاتے ہیںجبکہ گورنمنٹ آف پنجاب اور آڈیٹر جنرل پاکستان کے پاس فوری ریکوری کا کوئی مؤثر اور واضح نظام سرے سے موجود ہی نہیں جس کی وجہ سے اس تاخیر کا فائدہ ہمیشہ طاقتور افراد کو ملتا ہے، جبکہ نقصان قومی خزانہ اور تعلیمی نظام اٹھاتا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کیا یونیورسٹیاں علم کے مراکز ہیں یا مراعاتی تجربہ گاہیں؟ کیاخود مختاری کے نام پر قانون کو معطل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ اور کیا ہائر ایجوکیشن سے متعلقہ ڈیپارٹمنٹس اس کھلے انحراف پر کبھی سنجیدہ کارروائی کریں گے یا یہ سہولت کاری اور پردہ پوشی جاری رہے گی؟۔

شیئر کریں

:مزید خبریں