تازہ ترین

اپر پنجاب اور ملتان کے 2 وائس چانسلر کی ڈبل گیم، ڈبل بجٹ، فنڈز پر نظر

ملتان (سٹاف رپورٹر)تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچانے والے انکشافات سامنے آ رہے ہیں جن کے مطابق اپر پنجاب میں واقع ایک بڑی سرکاری یونیورسٹی اور ملتان کی ایک بڑی اور معروف سرکاری یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلرز جو کہ آج کل ساتھ ساتھ کی یونیورسٹیوں کے ایڈیشنل چارج بھی لیے ہوئے ہیں اپنی اپنی ذمہ داریاں پسِ پشت ڈال کر حال ہی میں قائم ہونے والی ایڈیشنل چارج والی یونیورسٹیوں میں ریگولر چارج لینا چاہتے ہیں اور ریگولر یونیورسٹیوں میں ایڈیشنل چارج لینا چاہتے ہیں۔ یہ محض افواہ نہیں رہی بلکہ باخبر ذرائع کے مطابق دونوں وائس چانسلرز نے حالیہ دنوں میں نئی قائم شدہ یونیورسٹیوں میں ریگولر وائس چانسلر بننے کے لیے انٹرویوز بھی دے دیئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا مبینہ ڈیل کے مطابق یہ دونوں وائس چانسلرز نئی یونیورسٹیوں میں ریگولر وائس چانسلر کے طور پر تعیناتی کے ساتھ ساتھ اپنی موجودہ بڑی یونیورسٹیوں کا اضافی چارج بھی اپنے پاس رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ یعنی ایک ہی وقت میں دو یونیورسٹیاں، دو بجٹس، دو ترقیاتی منصوبے اور اختیار بے حساب۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی دلچسپی کی اصل وجہ تعلیمی خدمت نہیں بلکہ ترقیاتی فنڈز ہیں۔ بڑی اور پرانی یونیورسٹیوں میں جہاں بیشتر ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، وہیں نئی قائم ہونے والی یونیورسٹیوں میں عمارتوں، انفراسٹرکچر، خریداری، سولرائزیشن، آٹومیشن اور کنسلٹنسی کے نام پر کھربوں روپے کے ترقیاتی کام ابھی باقی ہیں۔ اسی خلا نے مبینہ طور پر ان وائس چانسلرز کی توجہ کا رخ بدل دیا ہے۔ اساتذہ تنظیموں اور تعلیمی حلقوں میں گردش کرنے والی سنگین افواہوں کے مطابق نئی یونیورسٹیوں میں ہر قسم کے ترقیاتی کام پر کم از کم 15 فیصد کمیشن فکس سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ ادارے واقعی تعلیمی مراکز ہیں یا منافع بخش کاروباری منصوبے بن چکے ہیں؟ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہی طرزِ حکمرانی ہے جس کے باعث پاکستان کی گنی چنی یونیورسٹیوں کے سوا کوئی بھی جامعہ دنیا کی ٹاپ 500 یونیورسٹیوں میں جگہ بنانے میں ناکام ہے۔ قابلیت، تحقیق اور عالمی معیار کے بجائے اگر ترجیح کمیشن اور کنٹرول ہو تو نتائج یہی نکلتے ہیں۔ ایک اور تشویشناک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہی وائس چانسلرز ماضی میں بڑی یونیورسٹیوں کی سربراہی کے لیے بے حد بے تاب تھے مگر تعیناتی کے بعد انہیں وہاں موجود مضبوط اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشنز اور سینئر پروفیسرز کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اصولوں، شفافیت اور اجتماعی فیصلہ سازی نے ان کے کئی منصوبوں کو روک دیا۔ ذرائع کے مطابق اسی مزاحمت سے بچنے کے لیے اب ان کی نظریں ان نئی یونیورسٹیوں پر جمی ہیں جہاں نہ کوئی مضبوط سینئر فیکلٹی موجود ہے نہ فعال اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن۔ وہاں وہ اپنی مرضی سے قائم کردہ سینڈیکیٹس بنا کر من پسند فیصلے کروانے کی مکمل آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اعلیٰ تعلیم کے نگران ادارے اس مبینہ کھیل سے بے خبر ہیں؟ یا پھر یہ سب کچھ ایک خاموش رضامندی کے تحت ہو رہا ہے؟ اگر وائس چانسلرز کو دو کشتیوں میں سوار ہونے کی اجازت دے دی گئی تو نقصان صرف اداروں کا نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کے پورے تعلیمی مستقبل کا ہوگا۔ تعلیمی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان دعوؤں، انٹرویوز اور مبینہ ڈیلز کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں ورنہ یونیورسٹیوں کو علم کے مراکز کے بجائے کمیشن ہاؤسز بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ سب سے زیادہ حیران کن امر یہ ہے کہ کمیشن کی شرح اس قدر بڑھا دی گئی ہے کہ کوئی بھی ٹھیکیدار بغیر چوری کیے اور معیار پر کمپرومائز کے بغیر ٹھیکہ لینے کو تیار نہیں۔ چنانچہ اعلیٰ شہرت کے حامل ٹھیکیدار یونیورسٹیوں کے ٹھیکے لینے سے کترانے لگے ہیں اور تمام تر ٹھیکہ جات مختلف یونیورسٹیوں سے بلیک لسٹ ٹھیکیدار لے جاتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں