سونا 10 لاکھ، چاندی ایک لاکھ کا خواب ٹوٹ گیا، عالمی مارکیٹ کریش، کھربوں ڈوب گئے

ملتان (غلام دستگیر چوہان سے)سونےاورچاندی کی عالمی مارکیٹ کریش کرگئی،پاکستان سمیت دنیابھرمیں سرمایہ کاروں،ایپس اورمختلف سوشل میڈیا گروپس ٹیلی گرام،فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے دھاتوں پرٹریڈنگ کرنے والے افراد کے کھربوں روپے ڈوب گئے جبکہ سٹہ مافیاراتوں رات مالامال ہوگیا۔چاندی ایک لاکھ روپے تولہ اورسونا 10لاکھ روپے تولہ تک پہنچنے کی افواہوں پر پھر سے دھڑادھڑ خریداری جاری ہے۔ ملتان، بہاولپور،ڈیرہ غازی خان سمیت پاکستانی مارکیٹ میں چاندی کی بلیک مارکیٹنگ ابھی بھی جاری ہے۔لوگ قیمتیں بڑھنے کی آس پرعالمی مارکیٹ کے حساب سےچاندی جس کاریٹ 31جنوری کو 8800روپے تولہ تھا اسے 18ہزاروپےتولہ تک بلیک ریٹ پرخریدرہے ہیں اوریہ بھی بہت مشکل سے مل رہاہے۔سونے کی قیمتوں میں گزشتہ روز مزید کمی ہوگئی جس کے نتیجے میں عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونا سستا ہوگیا۔بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 255ڈالر کی بڑی نوعیت کی کمی کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 895ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ۔اسی طرح مقامی صرافہ بازاروں میں بھی کاروباری ہفتے کے آخری دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 25ہزار 500روپے کی بڑی کمی کے نتیجے میں نئی قیمت 5لاکھ 11ہزار 862روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 21ہزار 862روپے گھٹ کر 4لاکھ 38ہزار 839روپے کی سطح پر آگئی۔مقامی سطح پر چاندی کی فی تولہ قیمت بھی 2063 روپے کی کمی سے 9ہزار 006روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 1768روپے کی کمی سے 7ہزار 721روپے کی سطح پر آگئی۔قبل ازیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گزشتہ چند ہفتوں سے جاری غیر معمولی تیزی کا غبارہ 29 اور 30 جنوری 2026 کو اچانک پھٹ گیاجس کے نتیجے میں ملکی تاریخ کے بدترین مالی جھٹکوں میں سے ایک سامنے آیا۔ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور مقامی سطح پر منظم سٹہ بازی کے امتزاج نے ایسا ’’بگ کریش‘‘ پیدا کیا جس سے جہاں بڑے عالمی سرمایہ کار اور ہیج فنڈز منافع سمیٹنے میں کامیاب ہو گئے، وہیں پاکستان خصوصاً جنوبی پنجاب کے ہزاروں چھوٹے سرمایہ کار اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔ جنوری کے آغاز سے ہی سونے اور چاندی میں تیزی کی فضا دانستہ طور پر بنائی گئی۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کی افواہیں، عالمی سطح پر ڈالر کی غیر یقینی صورتحال اور پاکستان میں روپے کی کمزوری کو بنیاد بنا کر قیمتوں کو اوپر دھکیلا گیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ کسی مضبوط معاشی یا صنعتی طلب پر مبنی نہیں تھا بلکہ ’’پمپ اینڈ ڈمپ‘‘ اور خالص سٹہ بازی کا نتیجہ تھاجس کا اصل ہدف عام شہری تھا۔اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 2026 کو ملتان کی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 64 ہزار 50 روپے تھی۔ اگلے دن یہ 4 لاکھ 67 ہزار 350 روپے ہو گئی جبکہ 3 جنوری کو معمولی کمی کے ساتھ 4 لاکھ 66 ہزار 350 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا اور 20 جنوری کو سونا 4 لاکھ 79 ہزار 350 روپے فی تولہ تک پہنچ گیا۔ 21 جنوری کو پہلی مرتبہ پانچ لاکھ کی نفسیاتی حد ٹوٹ گئی اور ریٹ 5 لاکھ 5 ہزار 350 روپے ہو گیا، جس کے بعد مارکیٹ میں یہ افواہ عام کر دی گئی کہ سونا جلد دس لاکھ روپے فی تولہ تک جا سکتا ہے۔22 جنوری کو قیمت عارضی طور پر کم ہو کر 4 لاکھ 99 ہزار 650 روپے ہوئی مگر یہ کمی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ 23 جنوری کو ریٹ دوبارہ 5 لاکھ 5 ہزار 350 روپے پر پہنچ گیا۔ 24 جنوری کو سونا 5 لاکھ 15 ہزار 850 روپے، 25 جنوری کو 5 لاکھ 16 ہزار 330 روپے، 26 جنوری کو 5 لاکھ 26 ہزار 250 روپے اور 27 جنوری کو 5 لاکھ 26 ہزار 450 روپے فی تولہ تک جا پہنچا۔ 28 جنوری کو دن کا آغاز 5 لاکھ 33 ہزار روپے سے ہوا اور شام تک یہ قیمت 5 لاکھ 42 ہزار 500 روپے ہو گئی۔ 29 جنوری کو تیزی نے انتہا کو چھوتے ہوئے دن کا آغاز 5 لاکھ 48 ہزار روپے سے کیا اور شام تک ریٹ 5 لاکھ 79 ہزار 500 روپے فی تولہ تک پہنچ گیا جس کے نتیجے میں عوام نے خوف اور لالچ کے امتزاج کے تحت دھڑا دھڑ خریداری شروع کر دی۔رات گئےاوراگلےدن30 جنوری کو اچانک صورتحال پلٹ گئی۔ سونے کی قیمت تیزی سے نیچے آنا شروع ہوئی، سٹہ باز سرگرم ہو گئے اور ریٹ 5 لاکھ 79 ہزار 500 روپے سے گر کر 5 لاکھ 38 ہزار روپے فی تولہ تک آ گیا۔ شام کے وقت قیمت کچھ سنبھلی اور 5 لاکھ 48 ہزار روپے تک پہنچی ۔اگلے دن ہفتہ 31جنوری یعنی کل کاروباری ہفتے کے آخری دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 25ہزار 500روپے کی بڑی کمی کے نتیجے میں نئی قیمت 5لاکھ 11ہزار 862روپے کی سطح پر آگئی۔دوروزمیں تقریباً68ہزارروپے قیمت گرگئی۔ اس مرحلے پر یہ واضح ہو گیا کہ مارکیٹ میں ریورس گیئر لگ چکا ہے اور مصنوعی تیزی کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔چاندی کی مارکیٹ میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک رہی۔ یکم جنوری کو چاندی کی قیمت 7 ہزار 537 روپے فی تولہ تھی۔ ابتدائی دنوں میں معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد 6 جنوری کو یہ اچانک 8 ہزار 102 روپے تک پہنچ گئی۔ 7 جنوری کو 8 ہزار 518، 8 جنوری کو 8 ہزار 327 اور 9 جنوری کو 8 ہزار 40 روپے رہی۔ مہینے کے وسط تک چاندی مسلسل اوپر جاتی رہی اور 13 جنوری کو 9 ہزار 28 روپے، 15 جنوری کو 9 ہزار 572 روپے اور 20 جنوری کو 9 ہزار 912 روپے فی تولہ ریکارڈ کی گئی۔ 23 جنوری کو یہ پہلی بار دس ہزار سے تجاوز کرتے ہوئے 10 ہزار 57 روپے ہوئی۔ 27 جنوری کو اچانک بڑا جمپ آیا اور چاندی 12 ہزار 4 روپے فی تولہ تک جا پہنچی۔ 29 جنوری کو یہ 12 ہزار 13 روپے اور 30 جنوری کو 11 ہزار 743 روپے فی تولہ پر بند ہوئی۔یہ تمام ریٹس ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور کراچی کی صرافہ مارکیٹس میں عالمی منڈی کے مطابق تھے، تاہم اسی دوران سٹہ مافیا نے بلیک مارکیٹ میں چاندی کی قیمت فی تولہ 20 ہزار روپے تک پہنچا دی۔ ہزاروں افراد نے اس بلیک ریٹ پر چاندی خریدی مگر 29 اور 30 جنوری کو جیسے ہی مارکیٹ کریش ہوئی، وہ شدید خسارے میں چلے گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بعض عناصر اب بھی مہنگی خریدی گئی چاندی کو بلیک ریٹ پر فروخت کرنے کے لیے نئے خریداروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ نے اس تناظر میں ہنگامی الرٹ جاری کیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ فیس بک، ٹیلی گرام اور یوٹیوب پر موجود متعدد گروپس اور چینلز ’’راتوں رات امیر‘‘ بنانے کے جھانسے کے تحت لوگوں کو غیر قانونی ٹریڈنگ ایپس کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ان میں Binomo، OctaFX، ExpertOption سمیت کئی ایسی ایپس شامل ہیں جو ڈیجیٹل گولڈ یا سلور کے نام پر سرمایہ کاری کرواتی ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق یہ گروپس پہلے مصنوعی تیزی دکھا کر لوگوں سے سرمایہ لگواتے ہیں اور بعد ازاں یا تو ایپس بند ہو جاتی ہیں یا مارکیٹ میں جعلی گراوٹ دکھا کر اکاؤنٹس صفر کر دیے جاتے ہیں۔دوسری جانب جید علما اور مفتیانِ کرام نے بھی اس ٹریڈنگ پر سخت شرعی موقف اختیار کیا ہے۔ دارالعلوم کراچی اور جامعہ بنوریہ کے فتاویٰ کے مطابق وہ تمام سودے جن میں سونے یا چاندی کا حقیقی قبضہ موجود نہ ہو اور صرف اسکرین پر قیمت کے اتار چڑھاؤ پر نفع نقصان طے کیا جائے، شرعاً ناجائز اور جوا ہیں۔ علما کا کہنا ہے کہ اسلام میں بیع الصرف کے اصول کے تحت قبضہ اور نقد لین دین لازم ہے، جبکہ ڈیجیٹل ایپس اور سٹہ بازی پر مبنی یہ کاروبار حرام کے زمرے میں آتا ہے۔حکومتِ پاکستان اور سٹیٹ بینک کی جانب سے بھی عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی سکیموں اور غیر رجسٹرڈ ایپس سے دور رہیں، کیونکہ ایسی ٹریڈنگ نہ صرف قانونی تحفظ سے محروم ہوتی ہے بلکہ اس کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل ہونے والی رقم کی واپسی کا کوئی راستہ بھی نہیں ہوتا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جن سرمایہ کاروں کے پاس سونا یا چاندی جسمانی شکل میں موجود ہے، انہیں گھبراہٹ میں فروخت سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ طویل مدت میں قیمتی دھاتیں اپنی قدر بحال کر لیتی ہیں۔ تاہم بلیک ریٹ اور افواہوں کے زیرِ اثر مزید خریداری کو انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ بحران اس حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کر چکا ہے کہ شارٹ کٹ کے ذریعے دولت کمانے کی خواہش اکثر عام آدمی کو بڑے کھلاڑیوں کا آسان شکار بنا دیتی ہے۔ موجودہ حالات میں محتاط رویہ، مستند ذرائع پر اعتماد اور قانونی راستوں کا انتخاب ہی نقصان سے بچنے کا واحد ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں