ملتان (سٹاف رپورٹر) پھاٹا افسران کی مبینہ کرپشن اور منظم ملی بھگت نے ملتان کے رہائشی علاقوں کو ایک بے ہنگم کمرشل جنگل میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں نہ قانون کی عملداری باقی رہی ہے اور نہ ہی شہری منصوبہ بندی کا کوئی تصور۔ ذرائع کے مطابق لاکھوں روپے کی منتھلیاں وصول کر کے فاٹا کے زیرِ اثر علاقوں میں رہائشی مکانات کو کھلم کھلا کمرشل استعمال کی اجازت دی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف قوانین پامال ہو رہے ہیں بلکہ شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ گلگشت، نیو ملتان اور ممتاز آباد جیسے علاقوں میں مین روڈ پر واقع تقریباً تمام رہائشی عمارتیں بغیر کسی منظور شدہ نقشے اور قانونی اجازت کے مکمل کمرشل بلڈنگز میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ حیران کن طور پر کئی عمارتوں میں بینکس، دفاتر اور بڑے کاروباری ادارے قائم ہیں مگر ان میں سے کسی ایک عمارت میں بھی بلڈنگ بائی لاز کی پابندی نظر نہیں آتی۔ نہ سیٹ بیکس رکھے گئے، نہ فلور ایریا ریشو کا خیال رکھا گیا اور سب سے سنگین بات یہ کہ پارکنگ کے لیے ایک انچ جگہ بھی مختص نہیں کی گئی۔ ان غیرقانونی کمرشل عمارتوں کے باعث مین سڑکیں مستقل پارکنگ سٹینڈز میں تبدیل ہو چکی ہیں، فٹ پاتھ مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں اور عام شہری کے لیے پیدل چلنا بھی عذاب بن چکا ہے۔ ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو گاڑیوں کے لیے راستہ نہ ہونا کسی بڑے حادثے کی صورت میں المیے کو جنم دے سکتا ہے، مگر پھاٹا افسران اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر سال کے آغاز میں فاٹا افسران اور اہلکار نمائشی کارروائی کے طور پر مارکیٹوں کا دورہ کرتے ہیں، نوٹس چسپاں کرتے ہیں اور دھمکی آمیز انداز میں کہا جاتا ہے کہ اگر عمارت قانونی طور پر کمرشلائز نہیں تو دفتر ہزارہ میں پیش ہو کر وضاحت دی جائے، بصورت دیگر عمارت سیل یا مسمار کر دی جائے گی۔ اس کے بعد تاجر حضرات اپنی مارکیٹ کے صدر کی سربراہی میں فاٹا دفتر پہنچتے ہیں، وہاں معاملات طے پا جاتے ہیں اور واپسی پر وہی نوٹس پھاڑ کر کوڑے دان میں پھینک دیے جاتے ہیں۔ یہ کھیل گزشتہ دہائیوں سے بلا تعطل جاری ہے۔ ممتاز آباد میں مونا گرامر اسکول کی عمارت، جو اب مکمل کمرشل مارکیٹ بن چکی ہے، اس بدعنوان نظام کی واضح مثال ہے، جہاں پلرز پر لگے کراس کے نشان تین سال گزرنے کے باوجود آج بھی موجود ہیں، مگر کسی کو نہ قانون یاد آیا اور نہ ذمہ داری۔ اسی طرح میٹروپولیٹن کارپوریشن ملتان کی حدود کے ساتھ واقع حبیب میٹروپولیٹن بینک کی عمارت کے پلرز پر بھی کراس کے نشان آج تک واضح ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ کارروائیاں محض سودے بازی کے لیے ہوتی ہیں، قانون نافذ کرنے کے لیے نہیں۔ شہری اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات محض دکھاوے کے لیے کیے جاتے ہیں تاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو کارکردگی کا جھوٹا تاثر دیا جا سکے، جبکہ حقیقت میں پھاٹا کے یہی افسران شہر کو بے ہنگم کمرشلائزیشن کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ان غیرقانونی کمرشل عمارتوں کے نقشہ جات، پارکنگ پلانز اور کمرشل اجازت ناموں کا جامع آڈٹ کرایا جائے، اور ذمہ دار پھاٹا افسران کے خلاف مثال قائم کرنے والی کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ شہر کو تباہی کے دہانے سے بچایا جا سکے۔







