
ملتان (سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں انتظامی بدنظمی اور فیصلہ سازی کی سنگین کمزوری ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے، عارضی وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے حالیہ احکامات نے ادارے کی ساکھ اور طالبات کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے 29 جنوری 2026 کو جاری کیا جانے والا آفس آرڈر انتظامی نااہلی کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے فرنٹ مین اور کماؤ پوت محمد شفیق کی جانب سے جاری کردہ آفس آرڈر کے مطابق محمد اعظم سسٹم ایڈمنسٹریٹر (آئی ٹی) کو چیف سکیورٹی آفیسر کی اضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیںجبکہ اس سے قبل یہ ذمہ داریاں ادا کرنے والے ڈپٹی رجسٹرار کو فارغ کر دیا گیا۔ اسی حکم نامے میں دیگر انتظامی ردوبدل بھی کیے گئے مگر سب سے زیادہ تشویشناک پہلو سکیورٹی جیسے حساس شعبے کو ایسے افسر کے سپرد کرنا ہے جس کا اس میدان سے کوئی عملی یا پیشہ ورانہ تعلق نہیں۔ یونیورسٹی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید حیرت اور تشویش پائی جاتی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ سسٹم ایڈمنسٹریٹر کا سکیورٹی سے کیا تعلق؟ کیا کمپیوٹر نیٹ ورک اور سرور سنبھالنے والا افسر ہاسٹلز، داخلی راستوں، کیمپس سکیورٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی اہلیت رکھتا ہے؟ باخبر ذرائع کے مطابق اس تعیناتی سے قبل نہ کوئی سکیورٹی آڈٹ کیا گیا اور نہ ہی کسی ماہر ادارے سے مشاورت کی گئی جو عارضی وائس چانسلر کی ناتجربہ کاری کا ثبوت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی واضح ہدایات موجود ہیں جن کے مطابق چیف سکیورٹی آفیسر کے عہدے پر کم از کم ریٹائرڈ میجر یا اس سے اعلیٰ رینک یا سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تجربہ رکھنے والے افسر کی تعیناتی لازم ہے، تاہم خواتین یونیورسٹی ملتان میں ان ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیاجس سے معاملہ مزید متنازع ہو گیا ہے۔ تنقیدی حلقوں کے مطابق ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے فیصلے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یا تو انہیں قانونی تقاضوں کا مکمل علم نہیں یا پھر وہ عقل و دانش کے بجائے ذاتی صوابدید سے کام لے رہی ہیں۔ یہی طرزِ عمل ادارے میں مسلسل بحران کو جنم دے رہا ہے اور سکیورٹی جیسے اہم معاملے کو غیر سنجیدگی کی نذر کیا جا رہا ہے۔ خواتین یونیورسٹی ملتان میں زیرِ تعلیم اور ہاسٹلز میں مقیم 10 ہزار سے زائد طالبات کی سلامتی پر اس فیصلے کے بعد سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ والدین اور شہری حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں اس کا ذمہ دار کون ہو گا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ عارضی وائس چانسلر کے فیصلے تنقید کی زد میں آئے ہوں۔ ماضی میں بھی سینڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل اور متعدد انتظامی معاملات میں قانونی فورمز کو نظرانداز کرنے، عجلت میں فیصلے کرنے اور میرٹ کو پسِ پشت ڈالنے کے شواہد سامنے آتے رہے ہیں، مگر مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ اساتذہ، والدین اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ متنازع سکیورٹی تعیناتی کا فوری نوٹس لیا جائے آفس آرڈر کا مکمل قانونی جائزہ کرایا جائے طالبات کی سلامتی کے لیے اہل اور تجربہ کار سکیورٹی افسر تعینات کیا جائے اور عارضی وائس چانسلر کی انتظامی اہلیت کا غیر جانبدارانہ احتساب کیا جائے کیونکہ یہ معاملہ صرف ایک تقرری کا نہیں بلکہ ہزاروں بیٹیوں کی جان و سلامتی سے جڑا ہوا ہے، اور اس پر کسی قسم کی غفلت یا نااہلی ناقابلِ قبول ہے۔ اس بارے میں سی پی او آفس کے پی آر او کا کہنا تھا کہ چونکہ خواتین یونیورسٹی ملتان ایک خود مختار ادارہ ہے اس لیے سیکورٹی کی تمام تر ذمہ داری وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی ہے۔







