ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر)سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں ضلع ڈیرہ غازی خان اور تحصیل تونسہ شریف میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر 84 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیے گئے سات بڑے ترقیاتی منصوبوں میں بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے، تاہم چار سال گزرنے کے باوجود آج تک کسی قسم کی باضابطہ انکوائری منظر عام پر نہیں آ سکی۔ذرائع کے مطابق ان منصوبوں میں محکمہ ہائی وے، محکمہ بلڈنگ، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) اور دیگر سرکاری محکمے شامل ہیں، جن میں تعینات ایکسین، ایس ڈی اوز اور اکاؤنٹنٹس مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی خوردبرد کے بعد مالا مال ہو چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان افسران نے ناقص میٹریل، جعلی بلنگ، کام کی آدھی ادائیگی اور فائلوں میں ردوبدل کے ذریعے قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچایا۔متنازع منصوبوں میں پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی تونسہ شریف، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول تونسہ شریف کی اپ لفٹنگ، گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری سکول تونسہ کی اپ لفٹنگ، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ کو 190 بیڈز تک اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ، سٹی ٹریفک پولیس ڈرائیور اسکول تونسہ شریف، شہر کی بیوٹیفکیشن اسکیم اور منگڑوٹھہ تا بستی بزدار ساڑھے 14 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر و مرمت شامل ہیں۔مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں پر زمینی حقائق اور سرکاری ریکارڈ میں واضح تضاد موجود ہے۔ کئی منصوبے یا تو ادھورے ہیں یا پھر معیار اس قدر ناقص ہے کہ چند ماہ میں ہی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں، عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں اور بیوٹیفکیشن کے نام پر لگایا گیا سامان غائب ہو چکا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان منصوبوں کے دوران تعینات تمام افسران کے خلاف فوری طور پر شفاف انکوائری اسٹینڈ کی جائے اور لاہور سے وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی آڈٹ ٹیم بلا کر مکمل ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایماندارانہ آڈٹ کیا جائے تو کروڑوں روپے کی کرپشن بے نقاب ہو سکتی ہے۔عوامی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ احتساب کے فقدان کی وجہ سے کرپشن میں ملوث افسران نہ صرف سزا سے بچے ہوئے ہیں بلکہ بااثر بن کر دوبارہ اہم عہدوں پر تعینات ہو چکے ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، نیب اور اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوامی پیسے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔







