ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ رپورٹر)کوہِ سلیمان اور ڈیرہ غازی خان کے ملحقہ علاقوں میں سمگلرز مافیا کا راج بدستور قائم ہے، جبکہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں تاحال غیر مؤثر دکھائی دیتی ہیں۔ شہریوں اور مقامی ذرائع کے مطابق سمگلروں نے پورے ڈسٹرکٹ میں ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جس کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر تونسہ شریف، کوٹ ادو، ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے مختلف علاقوں میں سامان منتقل کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی راستوں سے سمگل شدہ سامان تونسہ شریف تھانہ صدر کی حدود، باغی اور دیگر ملحقہ علاقوں سے گزرتا ہوا مختلف شہروں تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں یہ سامان دکانوں اور گوداموں میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ سرگرمیاں چھوٹے چھوٹے گروہوں کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں، جو آپس میں منسلک ہیں اور مختلف شہروں میں اپنے نیٹ ورک رکھتے ہیں۔مقامی سطح پر بعض افرادجن میں محمد بخش، ظفر اور صابر کے نام شامل ہیں کو مبینہ طور پر اس سمگلنگ نیٹ ورک کے مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تاحال سرکاری سطح پر ان الزامات کی کوئی حتمی تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔ شہریوں کا الزام ہے کہ اربوں روپے مالیت کا سمگل شدہ سامان گزشتہ کئی برسوں سے پہاڑی علاقوں سے میدانی علاقوں تک منتقل ہو رہا ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی کارروائیاں محض کاغذی اور نمائشی حد تک محدود ہیں، جبکہ اصل سمگلر مافیا آج تک قانون کی گرفت میں نہیں آ سکی۔ شہریوں کے مطابق یہ صورتحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ مزید یہ بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ سمگلروں نے مبینہ طور پر ضلعی سطح کے بعض افسران اور انتظامیہ کے عناصر کو اثر و رسوخ کے ذریعے خاموش کر رکھا ہے، جس کے باعث یہ غیر قانونی کاروبار بلا روک ٹوک جاری ہے۔ڈیرہ غازی خان کے عوام اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سمگلنگ جیسے سنگین مسئلے کے خاتمے کے لیے ایک علیحدہ اور خودمختار فورس قائم کی جائے، جو صرف سمگلنگ مافیا کے خلاف کارروائی کی ذمہ دار ہو۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک غیر جانبدار اور مربوط کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی، اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔اس حوالے سے جب کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اور ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ سمگلنگ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ حکام کے مطابق حساس علاقوں میں نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ زمینی حقائق کے مطابق شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جائے، تاکہ علاقے میں قانون کی بالادستی قائم ہو سکے۔







