ملتان( سٹاف رپورٹر) خواتین یونیورسٹی ملتان میں انتظامی بحران ایک نئے مالی اسکینڈل کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں عارضی وائس چانسلر و پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے گورنر پنجاب کی واضح ہدایات اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے تحریری احکامات کے باوجود رخصتی سے چند روز قبل کمائی کا ایک نیا راستہ نکالتے ہوئے آٹھویں کانووکیشن کے انعقاد کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جب اکیڈمک کونسل، سینڈیکیٹ، انکریمنٹس اور دیگر بڑے انتظامی و مالی معاملات پر گورنر پنجاب کی جانب سے واضح رکاوٹ سامنے آ چکی ہے اور نئی مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی عنقریب ہے، تو ایسے میں روزمرہ امور چلانے کے بجائے تقریباً ایک کروڑ روپے کے متوقع اخراجات پر مشتمل کانووکیشن کا فیصلہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ اور ان کے مبینہ فرنٹ مین و کماؤ پوت محمد شفیق کے مابین ہونے والی باہمی ملاقات میں اس کانووکیشن کو مالی موقع میں تبدیل کرنے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اسی میٹنگ میں شیخ ٹریڈرز سے گاؤن کرایہ پر حاصل کرنے کے نام پر کمیشن طے کرنے کی بات بھی سامنے آئی۔ منصوبے کے تحت صرف ایک ہی دکاندار سے بات چیت کر کے گاؤن کی فراہمی کا ٹھیکہ دیا جانا ہے تاکہ معاملات یونیورسٹی کے فنانشل رولز اور پروکیورمنٹ کے دائرے سے باہر رہیں، بالکل اسی طرز پر جیسے ماضی میں سیلاب فنڈز، سیرت کانفرنس اور گرینڈ گالا میں لاکھوں روپے کا مبینہ ٹیکس بچا کر رقوم بغیر کسی ریکارڈ کے ہڑپ کی گئیں۔ حیران کن طور پر 28-01-2026 کو وائس چانسلر آفس کے کمیٹی روم میں کانووکیشن کے حوالے سے ایک اہم میٹنگ بھی طلب کر لی گئی، جس میں رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، ٹریژرر، ریزیڈنٹ آڈیٹر، بجٹ و اخراجات کے افسران، آئی ٹی، اسٹیٹ آفس، خریداری اور پریس مینیجر سمیت اہم مالی و انتظامی افسران کو طلب کیا گیا—جو بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ محض ’’روزمرہ امور‘‘تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑا مالی فیصلہ ہے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے 05-12-2025 کے مراسلے اور 28 جون 2024 کے نوٹیفکیشن میں دو ٹوک الفاظ میں ہدایت دی جا چکی ہے کہ عارضی یا پرو وائس چانسلرز سینڈیکیٹ، سینیٹ یا اکیڈمک کونسل کے اجلاس نہیں بلائیں گے اور نہ ہی کسی قسم کے طویل المدتی پالیسی یا مالی فیصلے کریں گے۔ اس کے باوجود کانووکیشن جیسے بڑے مالی بوجھ والے ایونٹ کی تیاری اس امر کی واضح عکاسی کرتی ہے کہ گورنر/چانسلر اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کے احکامات کو کھلے عام نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب نئی مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی چند دنوں کی بات ہے، تو کیا ڈاکٹر کلثوم پراچہ کو یہ اخلاقی، قانونی اور انتظامی اختیار حاصل ہے کہ وہ یونیورسٹی کو ایک کروڑ روپے کے مزید بوجھ تلے ڈالیں؟ یا یہ سب کچھ رخصتی سے قبل “آخری کمائی” کا بندوبست ہے؟ تعلیمی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ گورنر پنجاب اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ فوری نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف اس کانووکیشن کے فیصلے کو روکے بلکہ اس سارے معاملے کی شفاف انکوائری کرا کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے—ورنہ خواتین یونیورسٹی ملتان بدانتظامی اور لوٹ مار کی ایک اور مثال بن کر رہ جائے گی۔اس پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے پی آر او کا کہنا تھا ایکٹنگ وائس چانسلر یا عارضی وائس چانسلر صرف روز مرہ کے امور سر انجام دے سکتے ہیں۔







