تازہ ترین

کارپوریشن ملتان میں تجاوزات، پارکنگ کمائی کا ذریعہ، انسپکٹر منیر مرکزی کردار، انکوائری کمیٹی

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ آف پنجاب کی جانب سے قائم کی گئی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری، اعلیٰ سطحی افسران پر مشتمل کمیٹی اور دستاویزی شواہد کے باوجود میونسپل کارپوریشن ملتان کے انسپکٹر محمد منیر کو بدستور عہدے پر برقرار رکھنا نہ صرف سمجھ سے بالاتر ہے بلکہ یہ صورتحال پنجاب کے احتسابی نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل (انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ) کی جانب سے مرتب کی گئی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری رپورٹ کے مطابق میونسپل کارپوریشن ملتان میں شہری نظم و ضبط قائم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر غیر قانونی تجاوزات، ناجائز پارکنگ اور غیر رجسٹرڈ سرگرمیوں کو باقاعدہ آمدن کا ذریعہ بنا لیا گیا۔ یہ انکوائری 15 ستمبر 2023 کے آفس آرڈر نمبر LCS (Enq-11)-6(07)/2023 کے تحت قائم کی گئی جس کی منظوری خصوصی سیکرٹری LG&CD ڈیپارٹمنٹ نے دی۔ انکوائری کمیٹی میں شامل افسران میں سردار نصیر احمد، ڈائریکٹر جنرل (I&M)، LG&CD — کنوینر، عبدالغفار، ڈائریکٹر (فنانس)، پنجاب لوکل گورنمنٹ بورڈ — ممبر، امین اقبال شیخ، ڈائریکٹر (اکاؤنٹس)، DG (I&M) — ممبر شامل تھے۔ رپورٹ میں میونسپل کارپوریشن ملتان کے افسران و اہلکاروں کے خلاف سنگین نوعیت کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ملتان شہری فلاح اور ترقی کے اہداف کے برعکس مبینہ طور پر ذاتی مفادات کے گرد گھوم رہا ہے۔ شہر کے اہم بازاروں، چوکوں اور شاہراہوں پر غیر قانونی تجاوزات اور ناجائز پارکنگ کا پھیلاؤ میونسپل کارپوریشن کی مبینہ نااہلی یا چشم پوشی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انسپکٹر محمد منیر، محمد لقمان اور محمد بلال نے ریگولر ریگولیشن برانچ کے ہیڈ محمد راؤ رفیع سے مبینہ ملی بھگت کے ذریعے مختلف شادی ہالز، پارکنگ سٹینڈز اور کاروباری مراکز سے ماہانہ رقوم وصول کیں۔ رپورٹ میں درج مبینہ وصولیوں کی تفصیل یہ ہے۔اقبال مارکی واٹر ورکس روڈ سے 20 ہزار روپے، بسم اللہ میرج کلب معصوم شاہ روڈ سے 10 ہزار روپے، گلستان میرج کلب معصوم شاہ روڈ سے 10 ہزار روپے، کپل میرج کلب رحیم چوک سے 10 ہزار روپے، عرفات میرج کلب نرد خیان سنیما روڈ سے 15 ہزار روپے، انمول میرج کلب بابا صفرا روڈ سے 10 ہزار روپے، ایمپیریل بینکوئٹ ہال باواصفرا روڈ سے 10 ہزار روپے، مغل اعظم بابا صفرا روڈ سے 10 ہزار روپے، النور میرج کلب ڈائیوو ٹرمینل سے 20 ہزار روپے، ہم سفر میرج کلب سے 10 ہزار روپے، جالندھر میرج کلب سے 10 ہزار روپے، بی جے مارکیٹ سے 10 ہزار روپے، کے کے مارٹ شاپنگ سینٹر سے 25 ہزار روپے، اورینٹ ہال خانیوال روڈ سے 25 ہزار روپے، نور ہوٹل موٹر سائیکل اسٹینڈ ڈائیوو ٹرمینل کی بیک سائیڈ سے 20 ہزار روپے، الجنت ہوٹل موٹر سائیکل اسٹینڈ وہاڑی چوک سے 25 ہزار روپے، سٹیزن موٹر سائیکل اسٹینڈ وہاڑی چوک سے 20 ہزار روپے، مکہ موٹر سائیکل اسٹینڈ وہاڑی چوک سے 20 ہزار روپے، جدہ کار پارکنگ وہاڑی چوک سے 20 ہزار روپے، ابنِ سینا اسپتال سے 25 ہزار روپے اور خورشید رفیق اسپتال سے 20 ہزار روپے۔ اس کے علاوہ نشتر روڈ اور گھنٹہ گھر چوک پر واقع متعدد دکانوں اور میڈیکل اسٹورز سے بھی مبینہ طور پر ماہانہ رقوم وصول کی جاتی رہیں۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق مختلف ذرائع سے وصول کی جانے والی ان مبینہ منتھلیوں کی مجموعی رقم 11 لاکھ 9 ہزار روپے ماہانہ بنتی ہے۔ رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ بڑے کاروباری مراکز، شادی ہالز اور پارکنگ اسٹینڈز مبینہ طور پر منتھلی ادا کر کے محفوظ رہتے ہیں، جبکہ چھوٹے ٹھیلے اور کھوکھے والوں کے خلاف کارروائیاں کر کے کارکردگی ظاہر کی جاتی ہے، جسے شہری حلقے دوہرے معیار سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری مکمل ہونے، ثبوت سامنے آنے اور رپورٹ جمع ہونے کے باوجود ذمہ داران کے خلاف تاحال کوئی واضح کارروائی کیوں عمل میں نہیں لائی گئی۔ ذرائع یہ الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ مبینہ طور پر مالی لین دین کے ذریعے انکوائری کو دبایا گیا، جس کے باعث ملوث افسران کارروائی سے بچ نکلے۔ حکومت پنجاب کے لیے یہ معاملہ اب محض میونسپل کارپوریشن ملتان تک محدود نہیں رہا بلکہ گورنمنٹ آف پنجاب کے احتسابی دعوؤں کے لیے ایک عملی امتحان بن چکا ہے۔ شہری اور سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے، ملوث افسران کو معطل کر کے شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ تاثر مزید مضبوط ہو جائے گا کہ احتساب صرف کمزور کے لیے ہے، طاقتور کے لیے نہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں