ملتان (سٹاف رپورٹر) صوبہ بھر کی جامعات میں تعینات وائس چانسلرز کو سرکاری قواعد کے مطابق صرف 1300 سی سی گاڑی استعمال کرنے کی اجازت ہےمگر اس کے باوجود بیشتر وائس چانسلرز نے کروڑوں روپے مالیت کی ٹویوٹا فارچونر، ہیول اور دیگر لگژری گاڑیاں ’’پروٹوکول‘‘ کے نام پر خرید کر ذاتی استعمال میں لے رکھی ہیں اور دوسری طرف حکومت سے ہر وقت مالی امداد اور فنڈذ کی کمی کا واویلا کرتے ہیں۔ اب اسی سلسلے کی ایک اور کڑی بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے سامنے آ گئی ہے، جہاں فنانس اینڈ پلاننگ کمیشن کے ایجنڈے میں شامل ایک سمری نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جاری شاہ خرچیوں اور قواعد کی پامالی کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔ روزنامہ قوم کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق چیئرمین ٹرانسپورٹ کمیٹی نے وائس چانسلر کو ایک باقاعدہ مراسلہ ارسال جاری کیا، جس میں ’’پروٹوکول اور آپریشنل ضروریات‘‘ کا سہارا لیتے ہوئے 1500 سی سی اور لگژری SUV گاڑیاں خریدنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مراسلے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے پاس موجود VIP گاڑیاں پرانی ہو چکی ہیںجن کا مائلیج لاکھوں کلومیٹر عبور کر چکا ہے، اس لیے معزز مہمانوں، ارکانِ سینڈیکیٹ، اراکینِ پارلیمنٹ اور غیر ملکی وفود کے لیے ’’باعزت اور شایانِ شان‘‘ سفری سہولیات فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اسی بنیاد پر سفارش کی گئی ہے کہ ایک لگژری SUV ( Deepal، Haval H6 یا Jaecoo J5) 1 کروڑ 25 لاکھ روپے اور ایک 1500 سی سی سیڈان کار (Toyota Yaris یا Honda City) 65 لاکھ روپے تک کی لاگت سے خریدی جائے۔ دلچسپ اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ لیٹر میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ فنڈز دستیاب ہیںمگر یہ نہیں بتایا گیا کہ ان گاڑیوں کا استعمال واقعی پروٹوکول تک محدود رہے گا یا حسبِ روایت وائس چانسلر اور اعلیٰ افسران کے گھریلو و ذاتی کاموں میں استعمال ہوں گی۔ جب قواعد 1300 سی سی کی اجازت دیتے ہیں تو 1500 سی سی اور SUV کس قانون کے تحت خریدی جا رہی ہیں؟ کیا جامعات تعلیمی و تحقیقی بحران سے نکل چکی ہیں جو کروڑوں روپے گاڑیوں پر لٹائے جا رہے ہیں؟ کیا ’’پروٹوکول‘‘ اب قانون سے بالاتر ایک نیا ہتھیار بن چکا ہے؟ ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک یونیورسٹی کا نہیں بلکہ صوبہ بھر کی جامعات میں جاری ایک منظم لوٹ مار اور مراعاتی کلچر کی عکاسی کرتا ہے، جہاں تعلیم، لیبارٹریز، طلبہ سہولیات اور اساتذہ کی ترقی پس منظر میں چلی گئی ہے، جبکہ لگژری گاڑیاں اولین ترجیح بن چکی ہیں۔ اب نگاہیں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، آڈیٹر جنرل اور اینٹی کرپشن اداروں پر ہیں کہ آیا وہ اس ’’پروٹوکول سکینڈل‘‘ کا نوٹس لیتے ہیں یا حسبِ روایت یہ فائل بھی خاموشی سے منظور ہو کر گیراج میں کھڑی ایک نئی کروڑوں کی گاڑی میں بدل جائے گی۔ یاد رہے کہ وائس چانسلرز کے لیے منظور شدہ گاڑی کی حد 1300 سی سی ہے۔ اس کے باوجود فارچونر، ہیول اور دیگر SUV خریدی جا رہی ہیں۔ روزنامہ کا مقام پہلے ہی اس بے قاعدگی کی نشاندہی کر چکا ہے۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے ایجنڈے نے اس روایت کی تصدیق کر دی کہ پروٹوکول‘‘ کے نام پر ذاتی عیاشیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یاد رہے کہ وائس چانسلر بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان اس سے پہلے بھی اپنے لیے ملتان کے ایک معروف نجی کلب کی ممبر شپ کا ایجنڈا سینڈیکیٹ میں رکھ چکے تھے مگر بعد ازاں روزنامہ قوم میں خبر شائع ہونے کے بعد وہ ایجنڈا واپس لے لیا گیا تھا۔







