ملتان (سٹاف رپورٹر) خانیوال شہر کے 25 لاکھ روپے کے ترقیاتی منصوبے کی انکوائری کو اینٹی کرپشن ملتان نے 35 لاکھ روپے میں ختم کر دیاجس نے شفافیت اور احتساب کے دعوئوں کو شدید سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ مقامی ذرائع اور متاثرہ شہریوں کے مطابق اینٹی کرپشن ملتان نے فرضی اور اپنے رکھے ہوئے افراد کو مقدمات میں شامل کر کے اصل درخواست گزار کو مسلسل نظر انداز کیا۔ عام شہری جو کسی بدعنوانی یا رشوت کے خلاف درخواست دیتے ہیں ان کی درخواست طلب کرنے کے بجائے اینٹی کرپشن کی ٹیم صرف اپنے’’پالتو ٹاؤٹ‘‘کے ذریعے کارروائی کرتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن کا یہ نظام اس قدر منظم طور پر ناکارہ ہو چکا ہے کہ جس کے خلاف شکایت ہو اسے بلا کر ذلیل کیا جاتا ہےجبکہ درخواست گزار کو بار بار کوشش کے باوجود پیش نہیں کیا جاتا۔ نتیجتاً شہریوں کے مسائل حل ہونے کے بجائے اینٹی کرپشن کی بدعنوانی اور غلط استعمال کے نئے کیسز جنم لے رہے ہیں۔ یہ صورتحال یہ سوال کھڑا کرتی ہے کہ کیا واقعی ملتان میں اینٹی کرپشن ادارہ عوام کے مفاد میں کام کر رہا ہے یا صرف اپنے رکھے ہوئے افراد اور سازشی بندوبست کے ذریعے عوام کو دھوکہ دے رہا ہے۔ 25 لاکھ روپے کے ترقیاتی منصوبے کی انکوائری 35 لاکھ میں ختم کر دینا اس ادارے کی کارکردگی پر شدید سوالیہ نشان ہے اور اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوامی وسائل کی لوٹ مار اور بدانتظامی پر کوئی کنٹرول موجود نہیں۔ یاد رہے کہ خانیوال میں 25 لاکھ روپے کے ترقیاتی منصوبے کی انکوائری غیر شفاف انداز میں ختم کی گئی۔ اینٹی کرپشن ملتان نے فرضی افراد کو مقدمات میں شامل کر کے اصلی درخواست گزار کو نظر انداز کیا۔ درخواست گزار کو پیش ہونے کا موقع نہیں دیا جاتا صرف جس کے خلاف درخواست ہو اسے بلا کر ذلیل کیا جاتا ہے۔ ادارے کی بدانتظامی اور شفافیت کے فقدان نے عوام میں شدید بے اعتمادی پیدا کر دی ہے۔







