بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)ملتان ریلوے ڈویژن میں وفاقی حکومت کی اربوں روپے مالیت کی زرعی اور رہائشی ریلوے اراضی بااثر ناجائز قابضین کے رحم و کرم پر ہے، جبکہ قومی ورثہ سمجھی جانے والی ریلوے املاک بدترین زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہیں۔بہاولپور کی تحصیل یزمان میں واقع ریلوے اسٹیشن اور اس سے منسلک قیمتی اراضی پر پلازے، کمرشل مارکیٹیں، مکانات اور درجنوں دکانیں تعمیر کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق چک نمبر 102 ڈی بی سمیت مختلف مقامات پر ریلوے کی زمین پر کاشتکاری بھی جاری ہے، مگر ریلوے انتظامیہ اس رقبے کو واگزار کروانے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔اطلاعات کے مطابق یزمان ریلوے اسٹیشن کے شیڈ اور اسٹیشن کی حدود میں واقع 800 سے زائد کنال قیمتی رقبہ غیرقانونی طور پر نجی افراد کے حوالے کر دیا گیا ہے، جس پر بااثر مافیا نے کمرشل مارکیٹیں اور رہائشی عمارتیں کھڑی کر دی ہیں۔ اس غیرقانونی قبضے کے باعث قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔اسی طرح چک نمبر 102 رینجرز موڑ کے قریب واقع قیمتی ریلوے اراضی مبینہ طور پر فرضی کاغذی کارروائی کے ذریعے فروخت کی جاتی رہی، جس پر ریلوے افسران اور انسپکٹر آف ورکس کی مبینہ ملی بھگت کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ حیران کن طور پر اس تمام صورتحال کے باوجود تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یزمان تا فورٹ عباس ریلوے سیکشن عرصہ دراز سے بند پڑا ہے، پٹڑی کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے، مگر اس کے باوجود کروڑوں روپے مالیت کی وفاقی ریلوے اراضی ناجائز قابضین کے حوالے کر دی گئی۔ اس سیکشن میں ریلوے اسٹیشن اور دیگر عمارتیں بھی خستہ حالی کا شکار ہو کر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ فورٹ عباس شکوہن، بھاول نگر اور شیخوہیں کے علاقوں پر مشتمل تقریباً 350 کلومیٹر طویل ریلوے اراضی کی نگرانی ایک ہی انسپکٹر آف ورکس (IOW) کے سپرد ہے، جو خود ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، چیئرمین/سی ای او پاکستان ریلوے، ڈی ایس ریلوے ملتان، ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ اور ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کروا کر ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ناجائز قابضین سے اربوں روپے مالیت کی ریلوے اراضی واگزار کروائی جائے اور قومی ورثے کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو ریلوے کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔







