تازہ ترین

غیرت کے نام پر انسانیت قتل، ریاست بےبس، قبائلی سرداری غالب، انصاف پہاڑوں میں دفن

ڈیرہ غازیخان(سپیشل رپورٹر، ڈسٹرکٹ رپورٹر) غیرت کے نام پر قتل” شادی شدہ لڑکی سے سازباز ہو کر گھر سے بھگا کر لیجانے والے ابراہیم بلوچ قتل، قاتلوں نے دھوکہ دہی سے بلا کر رات کے اندھیرے میں فائرنگ کرکے جسم پر گولیوں کی بوچھاڑ، درجنوں فائر لگنے سے جسم سے گوشت کے ٹکڑے الگ ہو گئے، مقامی معزز و باعث شخصیت کے ملوث ہونے پر 40 گھنٹے تک مقدمہ درج نہ ہونے دیا، مقتول ابراہیم کی نعش پہاڑی میں پھینک کر قاتل خوشی سے حوائی فائرنگ کرتے ہوئے اپنے گھروں میں چلے گئے، متعلقہ تھانہ کی پولیس نے آنکھیں بند کر کے واقعہ کو بلوچی رواج کے مطابق “غیرت” کا نام دیدیا، بغیر پوسٹ مارٹم مقتول کو سپرد خاک کر دیا، کمانڈنٹ امیر تیمور کے نوٹس پر تھانہ تھوخ میں مقدمہ 9 نامزد ملزمان پر درج، تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان کے قبائلی علاقے تمن لغاری تھان تھوخ کی حدود میں ایک افسوسناک اور دردناک واقعہ پیش اسوقت پیش آیا جب ابراہیم بلوچ نے علاقہ میں نبی بخش کی شادی شدہ بہن (ل) کے ساتھ ساز باز ہو کر گھر چھوڑ کر چلے گئے اور تمن لغاری سے تمن بزدار میں جاکر ابراہیم نے خاتون سمیت پناہ لی۔ چند روز تک تمن بزدار میں رہائش پزیر ہونے کے بعد لغاری قبائل کے مقامی معززین نے ملکر تمن بزدار میں پناہ لینے والے جوڑے سے رابطہ کیا اور یقین دلایا کہ بلوچی روایات کے مطابق جوڑے کو قتل کرنے کی رواج پر عملدرآمد نہیں ہو گا اور اس بارے باقاعدہ یقین دہانی کر کے ذرائع کیمطابق معزز علاقہ نصیر خان نے گارنٹی بھی دی جس پر خاتون (ل) کو بزدار قبائل کے پاس سے پناہ لینے کے بعد واپس تمن لغاری میں ببر فیملی کے گھر بطور امانت چھوڑ دیا اور ابراہیم کو آزاد پھرنے کا حکم دیا جس پر چند روز کے بعد قاتل پارٹی نے مبینہ طور پر مقامی معززین نصیرخان، روزے، چارو، یارخان کے ایماء پر ملزمان نبی بخش، شیرعلی، بلوچ خان، غلام مصطفیٰ اور لالا نے مسلح اسلحہ کے زریعے ابراہیم کو ویران تک پہنچنے پر فائرنگ کر کے قتل کردیا اور قتل کرنے کے بعد ملزمان نے دل کی حسرت پوری کرنے کیلئے کئی درجن فائر کیئے جس سے مقتول کا سر اور چہرے کی گوشت جسم سے الگ ہوگئے اور ناقابل شناخت ہونے پر پہاڑ کے ویران پر چھوڑ کر چلے گئے اور جاتے ہوئے ملزمان نے غیرت کا بدلہ لینے پر خوشی سے حوائی فائرنگ کرتے رہے اور متعلقہ پولیس تھانہ تھوخ نے مقتول کے ورثاء کا مقدمہ درج نہ کیا اور نہ ہی لعش کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کرایا جبکہ اسے دفن کفن کے بعد خاموشی سے اسے دفنانے کا مشورہ دیا گیا ہے واقعہ کی علم کمانڈنٹ بی ایم پی کو ہونے پر اس نے نوٹس لیکر مقدمہ 40 گھنٹے بعد درج کرا دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں