ملتان (سٹاف رپورٹر) بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ہراسمنٹ کے ایک سنگین کیس نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں خواتین کے تحفظ، قانون کی عملداری اور بااثر حلقوں کے کردار پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فاریسٹری ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ افضل کی جانب سے ہراسمنٹ کا الزام سہنے والے ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کے خلاف دائر درخواست اب تک کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ سکی، حالانکہ خواتین کے تحفظ سے متعلق قوانین اس بات کے واضح پابند ہیں کہ ایسی کسی بھی درخواست پر 30 دن کے اندر اندر فیصلہ کیا جانا لازم ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شازیہ افضل نے گورنر پنجاب کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ خواتین پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ہراسمنٹ کیسز کا کسی بھی کریمنل یا عدالتی کارروائی سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا، مگر اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ اور انکوائری کمیٹی جان بوجھ کر اس معاملے کو فوجداری کیس کے ساتھ نتھی کر کے فیصلہ مؤخر کر رہے ہیں، جو کہ کھلی قانون شکنی کے مترادف ہے۔ تاخیر انصاف کے تقاضوں کے منافی اور متاثرہ خاتون پر دباؤ ڈالنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ یونیورسٹی ذرائع یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ نہ صرف ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں بلکہ یونیورسٹی کے اندر ایک مضبوط سیاسی و انتظامی لابی کی پشت پناہی بھی حاصل ہے، جس کے باعث ہراسمنٹ جیسے حساس معاملے میں بھی غیر جانبدارانہ اور بروقت فیصلہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔ اسی اثر و رسوخ کے نتیجے میں انکوائری کا عمل متنازع بنتا جا رہا ہے اور انصاف کی امید مدھم پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی تناظر میں گورنر پنجاب کو ارسال کیے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر ایک آزاد اور غیر جانبدار انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ حقائق کو دبنے سے بچایا جا سکے۔ خط میں کمیٹی کے مجوزہ اراکین کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور ڈاکٹر رحمہ، ڈاکٹر ثروت اور ڈاکٹر وقاص شامی کی جانبداری پر عدم اعتماد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ انکوائری کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر وہی افراد تحقیقات کا حصہ بنے رہے جن پر جانبداری کے شکوک ہیں تو انصاف محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔ تعلیمی و سماجی حلقوں میں اس کیس کو ایک ٹیسٹ کیس قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یہ طے ہو گا کہ آیا یونیورسٹیاں واقعی خواتین کے تحفظ کے قوانین پر عملدرآمد کی پابند ہیں یا پھر طاقتور افراد کے لیے قانون الگ اور کمزور کے لیے الگ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 30 دن کی قانونی مدت کی خلاف ورزی نہ صرف قانون کی روح کے خلاف ہے بلکہ اس سے خواتین اساتذہ میں عدم تحفظ اور خوف کی فضا بھی پیدا ہو رہی ہے۔ خواتین حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے گورنر پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، تاخیر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں اور ہراسمنٹ کیس کو بغیر کسی دباؤ اور مداخلت کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ معاملہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ہی نہیں بلکہ پورے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے ایک سوالیہ نشان بن جائے گا، جہاں قانون کتابوں میں موجود اور عملی طور پر معطل دکھائی دیتا ہے۔ یہ کیس اب محض ایک فرد یا ایک یونیورسٹی کا نہیں رہا بلکہ یہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ پاکستان میں خواتین کے تحفظ کے قوانین واقعی موثر ہیں یا پھر بااثر لابیوں کے سامنے بے بس۔







